صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 705 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 705

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۰۵ ۸۷ - كتاب الديات والے تو عدل و انصاف کے مجسمہ کہلاتے ہیں اور وہ مسلمان جنہوں نے اپنے پاؤں تلے کبھی ایک چیونٹی کو بھی نہیں مسلا تھا انہیں یہ لوگ ڈاکو اور لٹیرا قرار دیتے ہیں۔یہ میں تفاوت راه از کجا است تا به کجا له» ( تفسیر کبیر، سورۃ الفرقان، زیر آیت وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ جلد ۲ صفحہ ۵۷۶) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا تین گناہ کئے ہیں۔ا: جناب الہی کا حکم توڑا۔۲: اس کے منافع سے محروم کیا ۳: اس کی زندگی برباد کی۔۔۔فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ : غضب خود ایک جہنم ہے۔غضب کرنیوالوں کا دل کمزور ہو جاتا ہے۔اختلاج قلب میں گرفتار رہتے ہیں۔خُدا نے جھگڑوں کی ایک جڑ بتائی ہے۔نَسُوا حَقًّا مِمَّا ذَكَرُوا بِهِ فَاقْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء (المائدة : ۱۵) جب لوگ نصائح کو بھول گئے تو ان میں عداوت اور بغضاء شروع ہوا۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۵۱) بَاب :٢ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَمَنْ أَحْيَاهَا (المائدة: ٣٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور جو اُسے زندہ کرے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ حَرَّمَ قَتْلَهَا إِلَّا حضرت ابن عباس نے کہا: مَنْ أَحْيَاهَا سے مراد بِحَقِّ فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا۔ہے جس نے جان کے مار ڈالنے کو حرام قرار دیا سوائے اس کے کہ جائز طور پر اُسے مارا جائے تو گویا اُس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔٦٨٦٧ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۶۸۶۷: قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ که سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اعمش سے ، اعمش نے عبد اللہ بن مرہ سے ، عبد اللہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبد اللہ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ (بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبد اللہ نے راستے کے فرق کو تو دیکھو کہاں سے کہاں تک ہے۔“