صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 702
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۰۲ ۸۷ - كتاب الديات حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا (بن) (مبارک) نے ہمیں بتایا۔یونس نے ہم سے عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِي بیان کیا۔یونس نے زہری سے روایت کی۔عطاء حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ بن عدی حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ شَهِدَ نے اُنہیں بتایا کہ حضرت مقداد بن عمرو کندی بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے جو بنو زہرہ کے حلیف تھے انہیں بتایا اور أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ كَافِرًا حضرت مقد اڈا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر میں شریک تھے۔اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر کسی کافر سے میری مڈ بھیٹر ہو اور ہم آپس میں فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ بِشَجَرَةٍ وَقَالَ لڑیں اور وہ تلوار میرے ہاتھ پر مار کر اس کو کاٹ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، اقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ ڈالے اور پھر کسی درخت کی آڑلے لے اور کہے قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں اللہ کے لئے مسلمان ہو گیا تو کیا میں اس کو یہ لَا تَقْتُلُهُ۔قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُ بات کہنے کے بعد مارڈالوں؟ رسول اللہ صلی اللہ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو نہ مارو۔انہوں نے مَا قَطَعَهَا اقْتُلُهُ؟ قَالَ لَا فَإِنْ قَتَلْتَهُ کہا: یا رسول اللہ ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ گرا دیا فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ اور پھر ہاتھ کو کاٹنے کے بعد یہ کہا، تو کیا میں اسے بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قتل کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: اسے نہ قتل کرو اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے مقام پر ہو گے جس پر کہ وہ اس کلمہ کے کہنے سے پہلے تھا جو اس نے کہا۔قَالَ۔طرفه : ٤٠١٩ - ٦٨٦٦ : وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ :۶۸۶۶: اور حبیب بن ابی عمرہ نے کہا سعید سے عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ مروی ہے۔سعید نے حضرت ابن عباس سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ روایت کی۔اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم