صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 696
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۹۶ ۸۶ - کتاب الحدود ان میں سے بعض کی نسبت یہ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے کہ یہ تو اس وقت فلاں جگہ پر بیٹھا تھا۔پس چونکہ زنا ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے بیرونی دلائل نہیں ہوتے۔اس لئے اس پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے۔اس وجہ سے شریعت نے چوری اور قتل کے لئے تو دو گواہوں کی گواہی کو تسلیم کیا لیکن بدکاری کے الزام کے متعلق چار گواہوں کی شرط لگائی اور الزام لگانے والوں سے ہمدردی کو بھی سخت جرم قرار دیا اور الزام سنتے ہی اس کو جھوٹا قرار دینے کی نصیحت کی۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ نور، زیر آیت وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَربَعَةِ جلد ۲ صفحہ ۲۶۳ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔پھر نہیں پیش کرتے چار گواہ۔ان کو اسی ۸۰ کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔یہ لوگ فاسق ہیں۔اس آیت شریفہ میں دو حکم ہیں۔اول تو یہ کہ جب تک چار گواہ نہ ہوں۔کسی کا ایک عورت پر تہمت لگانا قبول نہیں کیا جا سکتا۔جب کبھی کوئی شخص کسی عورت کے متعلق زناکار کا لفظ بولے تو ضرور ہے کہ اس سے چار گواہ طلب کئے جاویں۔دوسرا حکم یہ ہے کہ جو شخص چار گواہ نہیں لا سکتا اور یونہی کسی کو بدنام کرتا ہے۔اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو اسی ۸۰ کوڑے مارے جائیں اور پھر کسی معاملہ میں اس کی گواہی قبول نہ کی جائے۔یہ ہر دو حکم نہایت ہی غور اور توجہ کے لائق ہیں۔عموماً لوگوں کی عادت ہے کہ صرف خیالی طور پر بدظنی کر کے چہ جائیکہ رؤیت ہو اور چار گواہ بھی ہوں۔عوام میں کہنے لگ جاتے ہیں کہ فلاں مرد یا عورت نے زنا کیا۔پھر ایسی باتوں کو لوگ اپنی مجلسوں کا شغل بناتے ہیں۔خدا کے غضب سے ڈرنا چاہیئے اور ایسی بات منہ پر نہیں لانی چاہیئے۔کیونکہ خدا نے ایسے آدمی کا نام فاسق رکھا ہے۔جو بغیر چار گواہوں کے کسی پر اتہام لگاتا ہے۔“ (حقائق الفرقان، جلد ۳ صفحہ ۲۰۲) بَاب ٤٥: قَذْفُ الْعَبِيدِ غلام لونڈی پر زنا کی تہمت لگانا ٦٨٥٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۸۵۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید