صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 687 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 687

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۸۷ ۸۶ - کتاب الحدود أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ فِي عليہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو غلہ بغیر ماپ تول مَكَانِهِمْ حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ۔ کے خریدنے اور اپنے ٹھکانوں میں پہنچنے سے پہلے أطرافه: ۲۱۲۳ ، ۲۱۳۱ ، ٢١۳۷، ٢١٦٦، ٢١٦٧۔ بیچنے پر سزادی جاتی تھی۔ ٦٨٥٣: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ۶۸۵۳: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي (بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں خبر عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ دی۔ یونس نے زہری سے روایت کی کہ عروہ نے مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مُجھے بتایا۔ عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى روایت کی۔ اُنہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی معاملہ میں جو آپ کی ذات متعلق ہوتا انتقام نہیں لیا۔ جب اللہ کی حرمتوں سے کی ہتک کی جاتی تو آپ اللہ کے لئے انتقام لیتے۔ أطرافه: ٣٥٦٠، ٦١٢٦، ٦٧٨٦- تشريح : كَمِ التَّعْزِيرُ وَالْأَدَبُ: وَالْأَدَب: سزا اور سرزنش کتنی ہو ؟ حد اور تعزیر میں فرق ہے۔ جو سزا شریعت نے معین فرمادی ہے وہ مادی ہے وہ حد کہلاتی ہے ہے ، اور جو شریعت نے معین نہیں کی بلکہ حاکم اور قاضی کی صوابدید پر اسے رکھا ہے وہ تعزیر کہلاتی ہے۔ اس میں مختلف حالات میں سزا میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ شریعت کا منشاء سرا بڑھانے کا نہیں بلکہ کم کرنے کا ہے۔ جیسا کہ زیر باب روایات میں دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا سے منع کیا گیا ہے۔ اسلام کے نزدیک سر الطور اصلاح ہے نہ کہ بطور انتقام۔ تہدید سے مراد ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ ہے۔ بَاب ٤٣ : مَنْ أَظْهَرَ الْفَاحِشَةَ وَاللَّطْخَ وَالتَّهَمَةَ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ جس نے بغیر ثبوت کے بے حیائی اور بدکاری اور تہمت کو بیان کیا ٦٨٥٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۸۵۴ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَهْلِ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ زہری