صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 670
صحیح البخاری جلد ۱۵ عُمَرُ فُلَانًا۔ أطرافه: ٥٨٨٥، ٥٨٨٦ ۶۷۰ ۸۶ - کتاب الحدود فرمایا: اُن کو تم گھروں سے نکال دو اور آپؐ نے فلاں کو نکالا اور حضرت عمرؓ نے فلاں کو نکالا۔ بَاب ٣٤ : مَنْ أَمَرَ غَيْرَ الْإِمَامِ بِإِقَامَةِ الْحَدِ غَائِبًا عَنْهُ جس نے امام کے سواکسی اور کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کو شرعی سزادے جو امام کے پاس موجود نہیں ٦٨٣٥، ٦٨٣٦ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ ۶۸۳۵-۶۸۳۶: عاصم بن علی نے ہم سے بیان بْنُ عَلِيّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زہری سے، زہری نے عبید اللہ سے، عبید اللہ نے وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد سے جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ بدوی لوگوں میں سے ) سے ایک شخص نبی وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ اس وقت اقْضِ بِكِتَابِ اللهِ فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ (مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس نے کہا: صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ یا رسول اللہ ! اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ بِكِتَابِ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا فرماویں۔ (یہ سن کر) اس کا مخالف کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اس نے سچ کہا ہے یا رسول اللہ ! آپ عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ اس کے لئے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرماویں۔ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِّنَ میرا بیٹا اس کے پاس ملازم تھا اور اُس نے اس کی الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بیوی سے زنا کیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا تو میں نے ایک سو بکری وَتَغْرِيبُ عَامِ۔ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي اور ایک لونڈی فدیہ میں دی۔ پھر میں نے اہل علم بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ أَمَّا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو ایک الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌ عَلَيْكَ وَعَلَى سو کوڑے پڑیں گے اور ایک سال کے لئے ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا جلا وطن کیا جائے گا۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: اس