صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 646
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۶ ۸۶ - کتاب الحدود والشيخة اذا ز نيَا فَارُ جُمُوهُمَا الْبَتَّةَ“ ایک بڑی عمر والا مر دیا ایک بڑی عمر والی عورت اگر زنا کریں تو ان کو پتھر مار مار کر مار دو۔گویا الزَّانِيَةُ وَالزَّائی کے معنی الشيخ والشيخة کے ہی ہیں۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی ا ہم نے انہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا۔مگر حضرت عمرؓ نے اس کو غلطی سے قرآنی آیت سمجھ لیا۔لیکن بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کیلئے بھی قرآن کریم نے فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ کا ہی حکم دیا ہے رجم کا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر نے کہا کہ یارسول اللہ یہ بات مجھے لکھ دیجئے تو رسول کریم صلی عوام نے حضرت عمر کی اس بات کو ناپسند فرمایا۔کیونکہ یہ قرآنی حکم کے خلاف تھی۔پس الزَّانِيَةُ وَالزَّانی سے کامل زانی مراد ہے جو یا تو زنا کا عادی ہو یا اتنا نڈر ہو گیا ہو کہ وہ کھلے بندوں اس فعل کا ارتکاب کرتا ہو۔یا محصن یعنی شادی شدہ ہو یا بڑھا ہو اور پھر بھی وہ زنا کرتا ہو۔ایسے تمام لوگوں کے متعلق قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ اُن کا جرم ثابت ہونے 66 پر انہیں سو سو کوڑے لگاؤ۔“ ( تفسیر کبیر سورۃ نور، زیر آیت الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجلِدُ واحل واحد جلد ۶ صفحه ۲۴۸ تا ۲۵۷) باب ۲۲ : لَا يُرْجَمُ الْمَجْنُونُ وَالْمَجْنُونَةُ دیوانے مرد یا دیوانی عورت کو سنگسار نہ کیا جائے وَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَا اور حضرت علی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنِ الْمَجْنُونِ کہا: کیا آپ کو علم نہیں کہ مجنون اس وقت تک حَتَّى يُفِيقَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ مرفوع القلم ہے جب تک اس کو ہوش نہ آئے وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ۔اور بچہ بھی جب تک بالغ نہ ہو جائے اور سویا ہوا بھی جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو ؟ ٦٨١٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا :۶۸۱۵: یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ