صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 629 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 629

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲۹ ۸۶ - کتاب الحدود کے سفاکانہ فعل کو لمبا کیا اور عذاب دے کر مارا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ فعل اتفاقی لالچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سراسر معاندانہ رنگ رکھتا تھا اور دلی کینہ اور لمبے بغض کا نتیجہ تھا۔اور ان کے اس ظالمانہ فعل کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا جو اسلامی احکام کے نزول سے پہلے موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا، لیکن اس کے بعد جلد ہی اسلامی احکام نازل ہو گئے اور اس قسم کی تعذیب انتقامی رنگ میں بھی ناجائز قرار دے دی گئی چنانچہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں: آن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ يَحُبُّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنهى عَنِ المُثْلَةِ۔یعنی اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احسان اور حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور ہر حال میں دشمنوں کے جسموں کے مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔بعض مغربی محققین نے جن میں میور صاحب بھی شامل ہیں۔اس واقعہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے حسب عادت اعتراض کیا ہے کہ جس رنگ میں ان قاتل ڈاکوؤں کو قتل کیا گیا وہ ظالمانہ اور وحشیانہ تھا، لیکن اگر سارے حالات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اس معاملہ میں اسلام کا دامن بالکل پاک نظر آتا ہے کیونکہ دراصل یہ فیصلہ اسلام کا نہیں تھا بلکہ حضرت موسیٰ کا تھا جن کی شریعت کو حضرت مسیح ناصری نے منسوخ نہیں کیا بلکہ بر قرار رکھا۔سیرت خاتم النبيين على اليوم صفحہ ۸۳۶ تا ۸۳۹) بَاب ١٦: لَمْ يَحْسِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَارِبِينَ مِنْ أَهْلِ الرِّدَّةِ حَتَّى هَلَكُوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑنے والے مرتدوں کے زخموں کو خون بند کرنے کے لئے نہیں داغا یہاں تک کہ وہ مر گئے ٦٨٠٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ۶۸۰۳: محمد بن صلت ابو یعلی (توزی) نے ہم سے أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي بیان کیا کہ ولید (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔اوزاعی (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قِصَّةِ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةٌ، روایت نمبر ۴۱۹۲)