صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 630
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۳۰ ۸۶ - کتاب الحدود الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ نے مجھ سے بیان کیا۔اوزاعی نے یحی بن ابی عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ كثير) سے، بچی نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے وَسَلَّمَ قَطَعَ الْعُرَنِيِّينَ وَلَمْ يَحْسِمُهُمْ حضرت انس سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ کے لوگوں کے ہاتھ کٹوائے اور (خون حَتَّى مَاتُوا۔بند کرنے کے لئے ) اُن کو نہیں داغا یہاں تک کہ وہ اسی طرح مر گئے۔أطرافه ۲۳۳، ۱۰۰۱ ،۳۰۱۸، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٢، -٦٨٠٤ ٦٨٠٥، ٦٨٩٩ شریح " " اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سزا کے متعلق فرماتا ہے: جَزْؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مثْلُهَا (الشوری: ۴۱) کہ اصول سزا کا یہ ہے کہ جیسا جرم ہو اس کے مطابق سزا ہو۔جسمانی ایڈا کے متعلق عام طور سزا میں ظاہری شکل قائم رکھی جاتی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ۔۔۔شریعتِ اسلامی نے ایذا اور اس کے نتیجے کو الگ الگ جرم قرار دیا ہے۔اس بارہ میں شریعتِ اسلامی انگریزی قانون سے مختلف ہے۔انگریزی قانون کے ماتحت اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو اسے قتل کی ہی سزادی جائے گی وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کس طرح قتل کیا گیا۔فرض کرو ایک شخص گولی مار کر دوسرے کو مار دیتا یا تلوار چلا کر اس کی گردن اڑا دیتا ہے یا اپنی طرف سے تو اسے مار دیتا ہے لیکن وہ چند دن بیمار رہ کر مرتا ہے۔اب مارنے والے کی نیت فوری طور پر اسے مارنا تھی یہ نہیں تھی کہ ایذا دیدے کر مارے۔گو یہ الگ بات ہے کہ وہ ایڈ اسہہ سہہ کر مرا لیکن ایک اور شخص ہے وہ اپنے دشمن کو پکڑتا ہے اور پہلے اس کی ایک انگلی کاٹتا ہے پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی۔اس طرح وہ ایک ایک کر کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کاٹتا ہے پھر پاؤں کی انگلیاں کاٹتا ہے پھر ناک کاٹ دیتا ہے پھر آنکھیں نکال دیتا ہے اور اس طرح ایذا دیدے کر مارتا ہے۔ہماری شریعت ایسے موقعوں پر ایڈا کی الگ سزا دے گی اور قتل کی الگ دے گی۔اگر قاتل نے فوری طور پر قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کر ریح : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: