صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 613
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۱۳ ۸۶ - کتاب الحدود فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کون آپ کے سامنے جرآت کرے گا؟ تو اُسامہ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍ مِنْ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔آپ حُدُودِ اللهِ؟ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ فَقَالَ يَا نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدوں میں سے کسی حد کے أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ كَانَ متعلق سفارش کرتے ہو؟ اس کے بعد آپ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ کھڑے ہو کر لوگوں سے مخاطب ہوئے، فرمایا: الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ اے لوگو! تم سے جو پہلے تھے وہ اسی لئے گمراہ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ ہوئے کہ اُن کی عادت تھی کہ جب کوئی بڑا أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا۔چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے غریب چوری کرتا تو وہ اس پر سزا کو نافذ کرتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو محمد اس کے ہاتھ کو بھی کاٹ ڈالے۔أطرافه: ٢٦٤٨، ٣٤٧٥ ۳۷۳۲، ۳۷۳۳، ٤٣٠٤ ٦٧٨٧ ، ٦٨٠٠ - باب ۱۳ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا ( المائدة : ٣٩) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا : چوری کرنے والا اور چوری کرنے والی اُن دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو وَفِي كَمْ يُقْطَعُ وَقَطَعَ عَلِيٌّ مِنَ اور کتنی مالیت کے چرانے کی وجہ سے ہاتھ کاٹا الْكَفِّ۔وَقَالَ قَتَادَةُ فِي امْرَأَةٍ سَرَقَتْ جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کٹوائے اور فَقُطِعَتْ شِمَالُهَا لَيْسَ إِلَّا ذَلِكَ۔قتادہ نے ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی فتویٰ دیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا ( قتادہ نے کہا اس کی سزا) فقط اسی قدر ہے۔٦٧٨٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۷۸۹: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے