صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 602
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۰۲ ٨٦ - كتاب الحدود کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان ابواب کے تحت احادیث میں مختلف سزاؤں کا ذکر ہے۔ روایت نمبر ۶۷۷۳ میں یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے چھڑی اور جوتوں سے مروایا اور حضرت ابو بکر نے شراب نوشی پر چالیس کوڑوں کی سزادی۔ اور روایت نمبر ۶۷۷۴ میں نعیمان یا ابن نعمان کے متعلق ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو۔ حضرت عقبہ بن حارث کہتے ہیں میں بھی اُن میں سے تھا جنہوں نے اُسے مارا۔ روایت نمبر ۶۷۷۵ میں یہی واقعہ بیان ہوا ہے۔ روایت نمبر ۶۷۷۷ میں اس مار کا ذکر ہے جو مذکورہ بالا روایات میں بیان ہوئی ہے۔ ایک مزید یہ ذکر ہے کہ کسی نے اس شرابی کو کہا اخزاك الله اللہ تجھے رسوا کرے۔ رسول اللہ نے اس سے منع کیا۔ فرمایا اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بنو۔ روایت نمبر ۶۷۷۸ میں یہ ذکر ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا میں کسی پر حد قائم کروں (شرعی سزا دوں) اور وہ مر جائے تو مجھے ملال نہیں ہو گا مگر شراب پینے والا اگر اس سزا سے مر جائے تو اس کی دیت دوں گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ایسی سز ا ثابت نہیں جس سے وہ مر جائے۔ باب کی آخری روایت نمبر ۶۷۷۹ میں یہ ذکر ہے کہ حضرت عمر بھی چالیس کوڑوں کی سزا دیتے تھے جب لوگ اس گناہ میں بڑھ گئے تو حضرت عمرؓ نے اسی (۸۰) کوڑے مروائے۔ ان روایات میں جہاں کوڑوں کا ذکر ہے اس سے مراد بھی صرف اس قدر ہے کہ ایسی سزا ہو جس کا اثر صرف جلد پر پڑے جلد کا لفظ جلد سے ہی ماخوذ ہے۔ اس میں ایسی سزا نہیں دی جا سکتی جس سے جلد پھٹ جائے اور اندر تک زخم ہو جائیں۔ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں شرابی کو حد لگانے کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ بلکہ شرابی کے حسب حال اسے سزادی۔ (۲) حضرت عمرؓ نے صحابہ کے مشورہ سے چالیس کوڑے لگائے ۔ مشورہ دینے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول یا عمل پیش نہیں کیا اپنی رائے سے مشورہ دیا۔ امام بخاری کا بھی یہی رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ اُنہوں نے کوڑوں کی تعداد کے متعلق کوئی باب قائم نہیں کیا اور نہ تعداد کی تعیین کے لیے کوئی مرفوع حدیث نقل کی ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۹۱) باب نمبر ۲ سے نمبر ۵ تک شراب پینے والے غالبا ایک ہی شخص کا واقعہ مختلف اسناد و طرق سے دہرایا گیا ہے۔ امام بخاری نے نعیمان یا ابنِ نعیمان کے الفاظ سے اس اشتباہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس سے اس کی تعیین مشکوک لگتی ہے۔ کیونکہ صحابہ کا طرز عمل جو مختلف روایات میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ ایسے افراد کا نام بیان نہیں کرتے تھے جس کاذکر محل دم میں ہو۔ واللہ اعلم ۔ نیز حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں بھی جن لوگوں کو شراب نوشی کی وجہ سے سزا دی گئی وہ بھی کوئی بڑی تعداد نہیں تھی بلکہ معدودے چند لوگ تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان اکا دکا واقعات کے علاوہ عرب کا وہ معاشرہ جو سر تا پا شراب نوشی میں غرق تھا اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی ربانی تعلیم اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پاک تاثیرات نے یکسر بدل دیا اور ایک ایسا انقلاب عظیم برپا کیا کہ شراب کے نشے میں مخمور رہنے والے خدائے واحد کی عبادت و محبت کے آب زلال کے دن رات جام پہ جام پیتے ۔ یہ ایسا معجزہ تھا جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی اس محیر العقول انقلاب کی ایک مختصر مگر نہایت ایمان افروز