صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 603 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 603

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۰۳ ۸۶ - کتاب الحدود جھلک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا میں لکھا ہے: ”معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ کے لوگوں کو شراب کے کشید کرنے کا طریق معلوم تھا اور تاریکی کے زمانوں میں عرب لوگ شراب کے کشید کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔“اس تاریخی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب قدیم زمانہ میں شراب بنانے اور اس کے استعمال کرنے میں سب سے آگے تھے۔بلکہ وہ دنیا کے لئے کشید کردہ شراب کی جو خمیر سے تیار کردہ شراب سے زیادہ سخت اور زیادہ عادی بنادینے والی ہے اکیلی منڈی بنا ہوا تھا یہ ملک تھا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے۔اور یہ قوم تھی جس سے شراب چھڑانے کا انہوں نے ارادہ کیا۔اس ارادہ کے پورا کرنے کیلئے انہوں نے کیا تدابیر اختیار کیں۔اور ان کا کیا نتیجہ نکلا یہ ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ ہے جس پر تمام عقلیں دنگ ہیں اور کل دانا انگشت بدنداں۔اس شراب کے نشہ میں مخمور رہنے والی قوم اور شراب کو اپنا ایک ہی دل لگی کا ذریعہ سمجھنے والی جماعت میں ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے ہیں۔اور مختصر اور صاف لفظوں میں خدا تعالیٰ کا یہ حکم سنا دیتے ہیں کہ شراب کے نقصانات چونکہ اس کے نفع سے زیادہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لئے اس کو حرام کر دیا ہے پس ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پر ہیز کرے اور اس کا بنانا، بیچنا، پینا اور پلانا ترک کر دے۔اور اس حکم کو سن کر وہ شراب کے شیدائی اپنا سر نیچا کر لیتے ہیں۔اور ایک شخص کے منہ سے بھی اس کے خلاف آواز نہیں نکلتی۔ہر ایک ان میں سے شرح صدر سے اس حکم کو قبول کر لیتا ہے اور اس وقت کے بعد شراب کا گلاس کسی ایک فرد کے منہ کے قریب بھی نہیں جاتا۔وہ لوگ مہلت نہیں مانگتے قلت و کثرت کا سوال نہیں اٹھاتے۔کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس چیز کی زیادتی حرام ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ان میں لیکچروں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔شراب کی بُرائیاں ذہن نشین کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔کیونکہ اسلام نے ان کے ذہنوں کو ایسی جلا دے دی تھی کہ حق بات کی طرف توجہ دلانا