صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 591
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۱ ۸۵- کتاب الفرائض بَيْنَهُمَا فَقَالَتِ الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ بیان کیا۔تو حضرت سلیمان نے کہا: میرے پاس يَرْحَمُكَ اللهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ چھری لاؤ، میں اس بچے کو چیر کر ان دونوں کے لِلصُّغْرَى قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ در میان تقسیم کر دیتا ہوں۔چھوٹی عورت بولی: اللہ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا آپ پر رحم کرے، ایسا نہ کرنا، یہ اسی کا لڑکا ہے۔اس پر حضرت سلیمان نے چھوٹی کو وہ بچہ دینے کا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ۔فیصلہ کیا۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے: اللہ کی قسم ! میں نے سکین کا لفظ کبھی نہیں سنا تھا۔صرف اسی دن طرفه ٣٤٢٧۔سنا اور ہم چھری کو مدیہ ہی کہا کرتے تھے۔بَاب ۳۱: الْقَائِفُ قیافہ شناس ۲۷۷۰: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۶۷۷۰ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ بیان کرتی تھیں وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقَ کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ آپ خوش تھے۔آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔آپ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز مُجَرِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ابن اعور بن جعدہ مدلجی) نے ابھی زید بن حارثہ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ اور اُسامہ بن زیڈ کو دیکھا اور کہا کہ یہ قدم تو ایک بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ۔أطرافه ۳۰۰۰، ۳۷۳۱، 6771۔دوسرے سے ہیں۔٦٧٧١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۶۷۷۱: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری