صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 592
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۹۲ ۸۵ - کتاب الفرائض عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ سے ، زہری نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ سے روایت کی۔آپ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ وَهُوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور أَنَّ مُجَرِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى آپ خوش تھے۔آپ نے فرمایا: عائشہ ! کیا تم نے أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيًا دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی یہاں آیا اور اُس نے رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ اُسامہ اور زیڈ کو دیکھا۔اُن دونوں پر ایک چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور اُن کے قدم کھلے تھے۔تو اُس نے کہا: یہ قدم هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ۔أطرافه ۳۰۰۰، ۳۷۳۱، ٦۷۷۰۔تو ایک دوسرے سے ہیں۔شریح : الْقَائِفُ: قیافہ شناس۔قائف فاعل کے وزن پر ہے، قیافہ سے لیا گیا ہے۔قیافہ کہتے ہیں آثار معلوم کرنا۔یعنی بعض نشانات کے ذریعہ اس کی اصل تک پہنچ جانا۔قائف اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو بعض امور کا تتبع کر کے اس کے نتیجہ تک پہنچ جائے۔علامہ اصمعی کہتے ہیں: قائف وہ شخص ہے جو کسی چیز کے نشان کی پیروی کرتا ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۲۶۳) یہ علم کی وہ قسم ہے جو دور قدیم سے چلی آتی ہے۔بعض لوگ اس میں بہت مہارت رکھتے ہیں۔انسان کی آنکھیں، اُس کے چہرہ کے خدو خال اور پاؤں سے اس کے خاندان کا علم ہو جاتا ہے۔حضرت اُسامہ بن زید کے متعلق اس زمانہ میں یہ چہ مگوئیاں ہوتی تھیں کہ وہ حضرت زید کے بیٹے نہیں ہیں۔اس کی ایک ظاہری وجہ یہ تھی کہ ان دونوں کی رنگت میں بہت فرق تھا۔حضرت زیدہ گورے اور سفید رنگ کے تھے جبکہ حضرت اُسامہ سیاہ فام لوگوں سے مشابہہ تھے۔اس کی اصل اور حقیقی وجہ یہ تھی کہ حضرت اسامہ کی والدہ حضرت اُم ایمن سیاہ فام تھیں۔اس قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ باپ اور بیٹے کے پاؤں ہیں۔اُس معاشرے میں قیافہ شناس کی بات کی بہت اہمیت تھی۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوشی اور مسرت ہوئی کہ ایک شخص کی Judgement (فیصلہ) سے اُن کا باپ بیٹا ہونا ثابت ہو گیا اور جو لوگ حضرت اسامہ کے نسب میں نیوٹرل طعن کرتے تھے اُن کو اُن کے فہم کے مطابق جواب مل گیا۔