صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 585 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 585

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۵ ۸۵ - كتاب الفرائض بَاب ٢٦ : لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ اور اگر وہ میراث تقسیم ہونے سے پہلے مسلمان ہو فَلَا مِيرَاثَ لَهُ۔ جائے تو اُس کو کوئی ورثہ نہیں ملے گا۔ ٦٧٦٤ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۶۷۶۴: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ ابن جریج سے ، ابن جریج نے ابن شہاب سے، حُسَيْنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَسَامَةَ ابن شہاب نے علی بن حسین سے، علی نے عمرو بن بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ عثمان سے ، عمرو نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر أطرافه: ١٥٨٨، ٣٠٥٨، ٤٢٨٣- مسلمان کا۔ تشريح : لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ : مسلمان کا فر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا۔ یہ روایت جنگ کے مخصوص حالات اور دارالحرب میں ہونے والے مسلمانوں اور ا ہیں ہوتا اور کفار کے متعلق ہے اور اس میں امر واقعہ کا بیان ہے نہ کہ اصولِ ورثہ کا۔ د با بیان ہے نہ کہ اصولِ ورثہ کا۔ دارالحرب میں عموما ایسا ممکن نہیں ہو مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ یعنی جب جنگ ہو رہی ہے اور دونوں طرف قتل ہو رہے ہیں اور ایسی جنگوں میں بعض حقیقی رشتہ دار کا قیقی رشتہ دار بھی ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے ہیں جیسے جنگ بدر میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا باپ عبد اللہ کفار اللہ کفار کی طرف سے برسرِ پیکار تھا۔ جب ان کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت ابو عبیا و عبیدہ نے اس کا قلع قمع کر دیا۔ (الاصابة في تمييز الصحابة، ذكر عامر بن عبد الله، جزء ۳ صفحہ ۴۷۶) اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر جو غزوہ اُحد میں مسلمان نہیں تھے اور کفار کی طرف سے لڑ رہے تھے۔ قبول اسلام کے بعد ایک دفعہ انہوں نے اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق کو بتایا کہ اُحد کے موقع پر آپ کئی دفعہ میرے حملہ کے نیچے آئے مگر میں نے آپ کو چھوڑ دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق ت ابو بکر صدیق نے کہا: اگر میں تمہیں دیکھ لیتا تو کبھی نہ چھوڑتا۔ (المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق، جزء ۳ صفحه ۵۳۹) پس ایسے حالات میں نہ باپ بیٹے کا وارث بن سکتا ہے نہ بیٹا باپ کا۔ اور اپنی محاربت، باہمی دشمنی اور کشمکش کے دور میں کسی ایک کا مال دوسرے کو ملنا دشمن کو مضبوط کرنے اور اپنے آپ کو کمزور کرنے ا کو کمزور کرنے اور اپنی قوم سے خیانت کے مترادف