صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 586 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 586

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۶ ۸۵ - کتاب الفرائض ہے۔مگر ان حالات میں بھی ایک استثناء ہے کہ اگر کوئی بیٹا جنگ پر جاتے ہوئے اپنے والدین کے لیے جو باوجو د کافر ہونے کے دشمن نہ ہوں اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی امدادی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تو وہ بیٹا ان ضرورت مند والدین کے حق میں وصیت کر سکتا ہے جس سے باوجود قومی دشمنی کے ان مستحق والدین کی مدد کی جاسکتی ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا إِلْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (البقرة: ۱۸۱) جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت ) آ جائے تو تم پر بشر طیکہ وہ (مرنے والا) بہت سا مال چھوڑے۔والدین اور قریبی رشتہ داروں کو (امر) معروف کی وصیت کر جانا فرض کیا گیا ہے۔یہ بات متقیوں پر واجب ہے۔اس تناظر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ورثاء کا فر ہوں تو اُن کیلئے حسن سلوک کی وصیت کر جائے۔اگر وہ دیکھے کہ انہیں کچھ مال دے دینے سے فائدہ ہو گا تو اُن کے متعلق تاکید کر دے کہ فلاں فلاں شخص کو میرے مال میں سے اس قدر حصہ ضرور دیدیا جائے اور اگر دیکھے کہ وہ اس روپیہ کو اسلام کے خلاف خرچ کرینگے تو نہ دے تا کہ اگر وہ اسلام کے خلاف اپنے مال کو استعمال کرنے والے ہوں تو انہیں مال نہ پہنچ سکے اور اگر جائز طور پر مدد کے تر طور پر مدد کے مستحق ہوں تو اُن کی مدد کی جاسکے۔“ ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زير آيت كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحدكم ، جلد ۲ صفحه ۳۶۶، ۳۶۷) اس روایت کو حربی کافر اور حربی مسلمان کے لیے مخصوص رکھا جائے تو یہ عین امر واقعہ کے مطابق اور وضع اللمني في محلہ ہے لیکن اگر اسے دار الحرب سے باہر عام معاشرتی ماحول میں دیکھا جائے تو یہ روایت قرآن کریم میں بیان فرمودہ احکام ورثہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم وہ محک اور کسوٹی ہے جس پر روایات کو پر کھا جاتا ہے۔قرآن کریم نے احکام ورثہ میں کہیں بھی مذہب کا ذکر نہیں کیا بلکہ رشتوں کی نسبت سے احکام ورثہ ہیں جن کی تفصیل سورۃ النساء آیت نمبر ۸ تا ۱۳ اور پھر سورۃ النساء آیت ۷۷ امیں بیان ہوئی ہے۔ان احکام میں کسی جگہ تقسیم ورثہ میں مذہب کو بنیاد نہیں بنایا گیا بلکہ اس کے برعکس قرآنِ کریم نے ان کفار سے حسن سلوک کی تعلیم دی ہے جو مسلمانوں کے دشمن نہیں۔جیسا کہ فرمایا: لا يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إليهم ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة: 9) اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔نیز فرمایا: لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اللَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9) کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آماد نہ کر دے کہ