صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 584
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۸۴ ۸۵ - کتاب الفرائض بَاب ٢٥: مِيرَاثُ الْأَسِيرِ قیدی کی وراثت قَالَ وَكَانَ شُرَيْحٌ يُوَرِّثُ الْأَسِيرَ فِي (ابو عبد الله امام بخاری نے) کہا: اور شریح اس أَيْدِي الْعَدُقِ وَيَقُولُ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ قیدی کو ورثہ دلایا کرتے تھے جو دشمن کے ہاتھوں وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَجِزْ وَصِيَّةَ میں ہو اور کہتے تھے کہ وہ اس کا زیادہ محتاج ہے الْأَسِيرِ وَعَتَاقَتَهُ وَمَا صَنَعَ فِي مَالِهِ مَا اور عمر بن عبد العزیز نے کہا: قیدی کی وصیت اور لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ فَإِنَّمَا هُوَ مَالُهُ يَصْنَعُ اس کی آزادی کو اور نیز جو بھی اس نے معاہدہ کیا ہو اُس کو اس کے مال سے ہی نافذ کر و بشر طیکہ وہ فِيهِ مَا يَشَاءُ اپنے دین سے بدل نہ گیا ہو کیونکہ وہ اس کا مال ہے، اس میں جو چاہے تصرف کرے۔٦٧٦٣: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۷۶۳: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ عَدِي عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی ( بن ثابت انصاری) أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے عدی نے ابو حازم سے ، ابو حازم نے حضرت وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ ابو ہریرہ سے ، حضرت ابوہریر گانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جو مال چھوڑ تَرَكَ كَلَّا فَإِلَيْنَا۔جائے تو وہ اُس کے وارثوں کا ہو گا اور جو کوئی بوجھ چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہو گا۔أطرافه ۲۲۹۸، ۲۳۹۸، ۲۳۹۹، ۱۷۸۱، 5۳۷۱، 6731، 6745- یح میراث الأسير : قیدی کی وراثت۔جو شخص کسی حکومت کی حراست میں ہو یا کسی جرم کی سزا میں قید ہو ، وہ جب تک زندہ ہے اور اس کے متعلق علم ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ اپنے تمام رشتوں میں اپنا حق ورثہ پائے گا۔صرف قید ہونے کی وجہ سے اسے وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح جب تک وہ زندہ ہے اُس کی بیوی (سوائے اس کے کہ وہ خلع لے لے) کسی دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتی اور اس کا مال بھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور اس کی وصیت نافذ العمل ہو گی۔اگر اس کی زندگی کا علم نہ ہو یا یہ نہ پتہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ مفقود الخبر کے زمرہ میں آئے گا۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۶۰)