صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 577
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۷۷ ۸۵ - کتاب الفرائض حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو قیس عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ عبد الرحمن بن شروان) سے ، ابو قیس نے ہریل لَا يُسَيِّبُونَ وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا سے ہزیل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اہل اسلام تو سائبہ نہیں يُسَيِّبُونَ۔چھوڑتے اور زمانہ جاہلیت کے لوگ سائبہ چھوڑا کرتے تھے۔٦٧٥٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا :۶۷۵۴ موسی ( بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ که ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور (بن عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ معتمر) سے منصور نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم ، عَنْهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ نے اسود بن یزید) سے روایت کی کہ حضرت أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خریدا کہ تا اسے آزاد کریں اور اس کے مالکوں نے اس کے وراثت إِنِّي اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ لِأُعْتِقَهَا وَإِنَّ أَهْلَهَا کے حق کو مشروط رکھا تو حضرت عائشہ نے عرض يَشْتَرِطُونَ وَلَاءَهَا فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا کیا: یارسول اللہ ! میں نے بریرہ کو خریدا ہے تاکہ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ أَوْ قَالَ أَعْطَى الثَّمَنَ اسے آزاد کر دوں لیکن اس کے مالک اس کے حق قَالَ فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا قَالَ وَحُيِّرَتْ وراثت کو ( اپنے لئے ) مشروط رکھ رہے ہیں۔آپ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَقَالَتْ لَوْ أُعْطِيتُ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو کیونکہ وراثت کا حق تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کر دے یا فرمایا: جو قیمت دے۔اسود کہتے تھے: چنانچہ حضرت عائشہ نے اس کو خرید لیا اور پھر اس کو آزاد کر دیا۔کہتے تھے: اور بریرہ کو اختیار دیا گیا تو اس نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کہا: اگر مجھے اتنا اتنا بھی دیا كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ۔جائے میں اس کے ساتھ کبھی نہ رہوں۔قَالَ الْأَسْوَدُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا قَوْلُ اسود کہتے تھے: اس کا خاوند آزاد تھا۔اسود کا یہ قول