صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 544
صحیح البخاری جلد ۱۵ والدله ۸۵ - كتاب الفرائض رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حضرت عائشہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ۔ أطرافه: ٤٠٣٤ ، ٦٧٢٧- نے نہیں فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہو گا۔ تشريح : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَبُ مَا تَرَ كُنَا صَدَقَة : صلى اله علیه وسلم کا فرمانا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ لا نُورَت مجہول کا صیغہ ہو تو معنے ہیں ہم وارث نہیں بنائے جاتے ، اور لا نُورِت معروف کا صیغہ ہو تو معنے ہیں ہم کسی کو وارث نہیں بناتے۔ مفہوم ایک ہی ہے کہ انبیاء کا اصل ورثہ مادی نہیں بلکہ روحانی ہوتا ہے اور ہر وہ شخص ان کا وارث بن سکتا ہے جو ان پر ایمان لا کر محبت، اخلاص، تقویٰ اور اطاعت میں ترقی کرتا ہے اور یہ میدان ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ ازواج، اولاد، آل و دیگر تمام اقرباء اور تمام مؤمنین اس میں شامل ہیں اور اس رشتے میں اپنے اور غیر کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ عدل کی وہ بڑی مثال ہے جس سے اوپر ممکن نہیں اور مسابقت کی اس دوڑ میں اگر کوئی اپنا اور حقیقی بیٹا بھی پیچھے رہ جائے تو اس رشتے کی قرابت اُسے نہیں بچا سکتی جیسے حضرت نوح کا بیٹا اپنی نافرمانی کی وجہ سے انهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ کا مصداق ٹھہرا اور محبت، اخلاص ، وفا اور اطاعت میں ترقی کرنے والے حضرت سلمان جو فارسی النسل تھے وہ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْل البيت كام کا مقام قرب پاگئے۔ ایک موقع پر آ موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رعلیہ وسلم نے فرمایا: محل تقي من آل محمد کہ ہر متقی آلِ محمد ہے۔ سے پس انبیاء جب یہ اعلان کرتے ہیں : قُلْ مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (الفرقان:۵۸) تو ان سے کہہ دے کہ میں تم سے اس (یعنی خدا کا پیغام پہنچانے) کا کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں 1 اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے چاہے تو اپنے رب کی طرف جانے والی راہ کو اختیار کرلے (وہی میرا بدلہ ہو گا )۔ پس نبی تو خدا کی راہ دکھانے اور اس پر چلانے کے لیے آتا ہے۔ جو بھی ان کی پیروی کرے گا وہ مقصد حیات کو پالے گا اور سلوک کی منزلیں طے کر تا کر تا وصلِ الہی اور لا ی اور لقائے باری تعالٰی کے مقام معراج تک جاپہنچے گا اور یہی حقیقی ورثہ ہے جو انبیاء دینے آتے ہیں اور یہ اعلان ان کی زندگی تک محدود نہیں ہو تا بلکہ ان کی حیات جسمانی کے بعد بھی ان تمام افراد کو نصیب ہوتا ہے جو اطاعت کی نالی سے شربت حیات پیتے ہیں۔ جہاں تک اُن اموال و جائیدادوں کا تعلق ہے جو بطور سربراہِ مملکت یا قومی لیڈر کے ان کو حاصل ہوتی ہیں ، وہ قومی جائیدادیں اور اموال ان کی ازواج یا اولاد اور اقرباء میں تقسیم نہیں ں ہوتے کیونکہ وہ ان کی ذاتی جائیدادیں نہیں ہوتیں بلکہ قومی جائیدادیں اور قومی املاک ک ہوتی ہیں۔ اور ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: یقیناوہ تیرے اہل میں سے نہیں۔“ (ھود:۴۷) (المستدرك للحاكم ، كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ ، ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِي ، روایت نمبر ۶۵۳۹) (المعجم الصغير للطبراني، باب الجيم من اسمه جعفر، روایت نمبر ۳۱۸) (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي ﷺ، جزء ۲ صفحہ ۷۴۰)