صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 534
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۴ ۸۵ - كتاب الفرائض عَلِيمٌ حَلِيمٌ (النساء : ١٣،١٢)۔ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو پھر وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ یہ اس وصیت کے ادا کرنے کے بعد جو کی جائے یا قرضہ ادا کرنے کے بعد کسی وارث کو نقصان نہ پہنچایا جائے، یہ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ خوب جانتا ہے، نہایت ہی بُردبار ہے۔ ٦٧٢٣ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۶۷۲۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ الله بن منکدر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عَنْهُمَا يَقُولُ مَرِضْتُ فَعَادَنِي رَسُولُ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرِ کہتے تھے: میں بیمار ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر میری عیادت کے لیے آئے وَهُمَا مَاشِيَانِ فَأَتَيَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ اور وہ دونوں پیدل ہی چل کر آئے۔ جب وہ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ وَضُوءَهُ فَأَفَقْتُ میرے پاس پہنچے تو میں بے ہوش تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي ڈالا تو میں ہوش میں آیا۔ میں نے کہا: یا رسول الله ! مَالِي كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي میں اپنی جائیداد کا کیا کروں؟ میں اپنی جائیداد میں بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ۔ کیسے فیصلہ کروں؟ تو آپ نے مجھے کچھ جواب نہ دیا یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ أطرافه: ١٩٤، ٤٥٧٧، ٥٦٥١، ٥٦٦٤، ٥٦٧٦، ٦٧٤٣، ٧٣٠٩۔ تشریح : يُوصِيكُمُ اللهُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ : اللہ تم کو تمہاری اولاد کے متعلق یہ تاکیدی حکم کرتا ہے کہ مرد کو دو عورتوں کے حصے کے برابر دیا جائے۔ اس آیت کے موقعہ نزول کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ مثلاً بخاری کتاب الفرائض روایت ۶۷۴۳ میں ہے کہ حضرت جابر نے کہا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الفَرَائِضِ اور بخاری کتاب التفسیر روایت ۴۵۷۷ میں ہے کہ حضرت جابرؓ نے کہا: قُلْتُ مَا تَأْمُرُ نِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَا لِي يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ اور بخاری