صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 535 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 535

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۳۵ ۸۵ - کتاب الفرائض کتاب الوضوء روایت ۱۹۴ میں فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنِ المِيرَاتُ؟ إِنما يَرِثُنِي كَلَالَةٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الفَرَائِضِ كتاب الفرائض روایت ۶۷۲۳ میں ہے: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ المَوَارِيثِ اور حضرت جابر کی روایت جو مسند احمد بن حنبل میں بیان ہوئی ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت جابر اس آیت کا موقعہ نزول یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یارسول اللہ اسعد تو آپ کے ساتھ اُحد میں شریک تھے اور شہید ہو گئے۔اُن کی یہ دو بیٹیاں ہیں۔سعد کے بھائی نے سارا مال قبضے میں لے لیا ہے۔آپ نے فرمایا: اس کے متعلق اللہ فیصلہ فرمائے گا۔اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی۔آپ نے سعد کے بھائی کو بلا کر فرمایا: سعد کے ترکہ کا دو تہائی اس کی دونوں بیٹیوں کو آٹھواں حصہ اس کی بیوی کو اور جو باقی بچے وہ تمہارا ہے۔(مسند احمد بن حنبل، جزء ۳ صفحہ ۳۵۲) حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں ممکن ہے ابتدائی حصہ حضرت سعد کی بیٹیوں کے متعلق نازل ہوا ہو اور جس آیت میں کلالہ کا ذکر ہے وہ حضرت جابر کے متعلق نازل ہوا ہو۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۶) یہ دونوں واقعات غزوہ اُحد کے بعد کے ہیں۔حضرت جابر کے والد غزوہ اُحد میں شہید ہوئے مگر حضرت جابر کی جس بیماری کا ذکر ہے وہ غزوہ اُحد کے قریب زمانہ کی معلوم نہیں ہوتی۔روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت جابر نے اپنے والد کی غزوہ اُحد میں شہادت کے بعد شادی کی۔اس وقت ان کی سات یا نو بہنیں تھیں۔ان کی بیماری کا یہ واقعہ شادی کے اتنا بعد کا ہے جب وہ اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور اپنے آپ کو کلالہ سمجھتے تھے۔جیسا کہ بعض روایات (نمبر ۱۹۴) میں ذکر ہے۔اس لیے امام ابنِ حجر کا یہ استدلال قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ والی آیت حضرت جابر کے استفسار کے بعد نازل ہوئی جبکہ حضرت سعد بن ربیع کی شہادت تو غزوہ اُحد کی ہے اس لیے ان کی بیوی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ میرا خاوند آپ کے ساتھ اُحد میں شریک تھا، وہ شہید ہو گیا اور اس کے مال پر اس کے بھائی نے قبضہ کر لیا، غزوہ اُحد کے معا بعد کا معلوم ہوتا ہے اور حضرت سعد کی بیوی کے پوچھنے پر سورہ نساء کی آیت ۱۳ نازل ہوئی جس کے یہ الفاظ ہیں: يُوصِيكُم اللهُ في أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِن كُنَ نِسَاءَ فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ القُمنُ (النساء : ۱۲، ۱۳) جبکہ حضرت جابر کے استفسار پر سور نسا ء آیت کے ا نازل ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُم فِي الكَللَةِ (النساء: ۱۷۷) وہ تجھ سے (ایک قسم کے کلالہ کے متعلق) فتویٰ پوچھتے ہیں۔تو کہہ دے اللہ تمہیں (ایسے) کلالہ کے متعلق حکم سناتا ہے۔اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سعد کی بیوی کا واقعہ پہلے ہوا اور اس پر النساء آیت ۱۳ نازل ہوئی اور حضرت جابڑ کا بعد میں۔ان کے استفسار پر سورۃ النساء آیت ۷۷ ا نازل ہوئی۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے مرد کے لئے دو عورتوں کے حصہ کے برابر (حصہ) ہے اور اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں ہوں تو ان کے لئے دو تہائی ہے اس میں سے جو اُس (مرنے والے) نے چھوڑا اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اُن (بیویوں) کا آٹھواں حصہ ہو گا۔“