صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 524
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۲۴ ۸۴- كتاب كفارات الأيمان تشريح : الاسْتِعْنَاهُ فِي الْأَيْمَانِ: قسموں : سموں میں ( انشاء اللہ کہہ کر ) استثناء کرنا۔ حصہ استثناء کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور انشاء اللہ کہہ لیا تو اس نے ( اپنی قسم میں ) استثناء کر لیا۔ پس اس پر قسم کے پورا نہ کرنے پر) کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ امام ترندی ان احادیث کو درج کر کے لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی کے مطابق تھا۔ ۔ امام بخاری نے یہ احادیث صحیح بخاری کی شرائط کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے درج نہیں کیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا: انشاء اللہ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تمام معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔ وہ طرح طرح کے مصائب اور مکارہ و موانع میں گھرا ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پورا نہ ہو۔ پس انشاء اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے مدد طلب کی جاتی ہے۔ آج کل کے ناعاقة ہے۔ آج کل کے ناعاقبت اندیش و نادان لوگ لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۶۳۱) باب ۱۰ : الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد کفارہ دینا ٦٧٢١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ۶۷۲۱: علی بن حجر نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، الْقَاسِمِ التَّمِيمِيّ عَنْ زَهْدَمِ الْجَرْمِي ایوب نے قاسم تمیمی سے، قاسم نے زہدم جرمی قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى وَكَانَ بَيْنَنَا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسی وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمِ إِخاء کے پاس تھے اور ہمارے اور جرم کے اس قبیلہ کے وَمَعْرُوفٌ قَالَ فَقُدِّمَ طَعَامُهُ قَالَ در میان برادری اور راہ و رسم تھی۔ (زبدم نے) کہا: وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجِ قَالَ اتنے میں کھانا سامنے رکھا گیا۔ کہا: اور اس کھانے وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ میں مرغی کا گوشت بھی رکھا گیا۔ کہا: اور ان لوگوں أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى قَالَ فَلَمْ يَدْنُ فَقَالَ میں بنو تیم اللہ سے ایک شخص تھا جو سرخ رنگ کا تھا (سنن الترمذي، أبواب النذور والأيمان، باب ما جاء في الاستثناء في اليمين)