صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 519
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۹ - كتاب كفارات الأيمان ارشاد فك رقبة کی تعمیل کا شوق صحابہ میں پیدا ہوا اور وہ غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے لگے مگر مشترکہ ملکیت کی صورت میں جب دقت پیدا ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دقت دور کرنے کے لیے عشق کو قانونی شکل دی مگر اس قانون میں بھی جبر و اکراہ سے کام نہیں لیا جیسا کہ روایت نمبر ۲۵۲۳ کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے۔جبر سے ملکیت کا مفہوم باطل ہو جاتا ہے۔اس قانونِ عشق سے باقی شر کاء کو بھی کارِ خیر میں برضاور غبت شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جب دیکھا کہ ان میں سے ایک مالک اپنا حصہ آزاد کر رہا ہے تو اس کا ساتھی بھی باقی حصہ کی قیمت لے کر انہیں آزاد کرنے میں شریک ہو گیا۔اس حسن تدبیر سے بہت سے غلام اور لونڈیاں آزاد ہو گئے۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِهِ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ۔“ 66 صحیح البخاری ترجمه و شرح، کتاب العتق ، شرح باب إذا أَعْتَقَ عَبْدًا ، جلد ۴ صفحه ۵۵۷،۵۵۶) بَاب : إِذَا أَعْتَقَ فِي الْكَفَّارَةِ لِمَنْ يَكُونُ وَلَاؤُهُ؟ اگر کفارے میں غلام آزاد کر دے تو اُس کی وراثت کا حق کس کا ہو گا ٦٧١٧: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۶۷۱۷: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم (بن عتیبہ) عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ سے کم نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ (بن یزید ) سے اسود نے حضرت عائشہ سے روایت فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو اس کے وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ مالکوں نے ان کے سامنے حق وراثت کی شرط پیش کی۔حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس أَعْتَقَ۔کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اسے خرید لو کیونکہ حق وراثت تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔أطرافه ٤٥٦، ۱۹۹۳، ۲۱۵۵، ۲۱۶۸، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ،٥، ٥٢٨٤۲۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷، ۲۰۷۸ ،۲٥٦٥ _7V9, 67VOA (7V0E CTV0I COET۔