صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 520
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۲۰ ۸۴ - كتاب كفارات الأيمان ح : إِذَا أَعْتَقَ فِي الْكَفَّارَةِ لِمَنْ يَكُونُ وَلَاؤُهُ: اگر کفارے میں غلام آزاد کر دے تو اس کی وراثت کا حق کس کا ہو گا ؟ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: آزادی کے تعلق میں یہاں ایک قانون بیان ہوا ہے کہ لونڈی غلام بغیر شرط ولاء (حق دراشت) آزاد ہوں گے اور آزاد کرنے والے شخص کے ساتھ آزاد شدہ لونڈی غلام کا تعلق مددگاروں اور اعزہ اقارب سا ہو گا۔ان کی اسی حیثیت کی وجہ سے ان کا لقب مولی یا مولاۃ رکھا گیا ہے۔مولیٰ کے معنی ہیں دوست و معاون، اسی سے لفظ موالاۃ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لفظ مولیٰ انہی معنوں میں استعمال ہو تا تھا جن معنوں میں آج کل لفظ Ally استعمال ہوتا ہے جو دراصل عربی لفظ ولاية اور ولاء کی تبدیل شدہ شکل ہے۔اسلامی قانون میں آزادی کے بعد غلام اور لونڈی کو لاوارث اور کسمپرسی کی حالت میں نہیں رہنے دیا گیا بلکہ آزاد کرنے والے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات مضبوطی سے قائم رکھے گئے ہیں یہاں تک کہ آزاد کرنے والا اگر لاوارث رہے تو آزاد شدہ لونڈی اور غلام اس کے وارث ہوں گے اور اگر لونڈی غلام لاوارث ہونے کی حالت میں مریں تو آزاد کرنے والا ان کا وارث ہو گا۔یہ قانون بھی غلاموں کی بہبود اور معاشرہ کی مضبوطی کے لئے ہے۔“ (صحیح البخاری ترجمه و شرح کتاب العتق ، شرح باب بَيْعُ الْوَلَاءِ وَهِبَتُهُ، جلد ۴ صفحه ۵۶۹) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غلاموں کی آزادی کے اس انتظام میں اس بات کو بھی مد نظر رکھا گیا تھا کہ آزاد ہونے کے بعد بھی آزاد شدہ غلام بالکل بے سہارا اور بے یارو مددگار نہ رہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا انتظام فرمایا تھا کہ مالک اور آزاد شدہ غلام کے در میان ایک قسم کا رشتہ اخوت مستقل طور پر قائم رہے۔چنانچہ آپ کے حکم کے ما تحت مالک اور آزاد شدہ غلام ایک دوسرے کے ”مولیٰ“ یعنی دوست اور مددگار کہلاتے تھے تاکہ آقا اور غلام دونوں کے دلوں میں یہ احساس رہے کہ ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور بوقت ضرورت ہم نے ایک دوسرے کے کام آنا ہے۔اسی مصلحت کے ماتحت آزاد شدہ غلام اور مالک کو ایک دوسرے کے متعلق