صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 518
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۸ ۸۴- كتاب كفارات الأيمان باب : إِذَا أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ اگر کوئی ایسا غلام آزاد کرے جو اُس کے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک ہو تشريح ۔ إِذَا أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ اگر کوئی ایسا غلام آزاد کرے جو اس کے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک ہو۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ یہ عنوان باب صرف مستملی کے نسخہ بخاری میں ہے۔ نیز امام بخاری نے اس عنوان کے تحت کوئی حدیث درج نہیں کی۔ (فتح الباری جزءا اصفحہ ۷۳۲) حالانکہ صحیح بخاری میں ہی اس مضمون کی احادیث ۔ نمون کی احادیث موجود ہیں۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مشترکہ غلام سے اپنا حصہ آزاد کرے تو اس کے ذمہ ہے کہ وہ اپنے مال سے اسے پورے طور پر آزاد کرائے۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے۔ پھر اس سے محنت مزدوری کروائی جائے لیکن ایسی نہ ہو جس کا وہ متحمل نہ ہو سکے۔ پھر وہ اس مزدوری سے اپنی باقی قیمت ادا کر دے اور آزاد ہو جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ ان کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگر اُس کی بقیہ قیمت ادانہ ہو سکے تو جو حصہ آزاد ہو چکا وہ تو آزاد ہو ہی چکار کے 上 نیکی اور ثواب کی خاطر غلاموں کو آزاد کرنے میں بلاشبہ یہ ایک اہم قدم ہے کہ مشتر کہ غلام کی آزادی بھی جس قدر ہو سکے ممکن بنائی جائے اور باقی حصہ غلامی کو بھی قائم رہنے نہ دیا جائے بلکہ کوشش کر کے اُس کو مکمل آزاد کروانے کی تلقین ہے۔ لیکن کفارات الایمان کے تعلق میں تو یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ غلام کو مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔ کفارہ کی ادائیگی ایک حصہ کی آزادی سے مکمل نہیں ہوتی۔ لازمی ہے کہ آزاد کرنے والا باقی شرکاء کا بھی حصہ ادا کر کے غلام کی آزادی کو حتمی بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ نے تو یہ کہا ہے کہ مشترک غلام کو کفارہ میں آزاد کرنا کفایت نہیں کرے گا جبکہ امام مالک اور امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ اسی صورت میں کفایت کرے گا کہ کشائش رکھنے والا مالک اپنے شریک کے حصہ کی ادائیگی کا بار اٹھا لے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال، جزء ۶ صفحه ۱۷۹) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: لفظ العبد غلام اور لونڈی دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ جہاں غلام لونڈی مشترکہ ہوں۔ اگر ایک شریک انہیں آزاد کرنا چاہے تو وہ اپنے حصہ سے متعلقہ اعلان کر سکتا ہے۔ پھر باقی ماندہ حصہ کی بابت قیمت کا اندازہ کر کے شریکوں کو ادا کرنے کی ہدایت ہے۔ آزاد کرنے والا شریک اگر خود ساری رقم ادا نہ کر سکتا ہو تو بذریعہ مکاتبت یا بذریعہ بیت المال اس کی باقی ماندہ قیمت شرکاء کو ادا کر کے پورے طور پر آزادی کا موقع بہم پہنچایا جائے۔ اه (صحيح البخارى، كتاب الشركة، باب تقويم الاشياء بين الشركاء بقيمة عدل، روایت نمبر ۲۴۹۲) (صحيح البخارى، كتاب العتق، باب إذا أعتق عبدا بين اثنين أو أمة بين الشركاء، روایت نمبر ۲۵۲۳)