صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 516
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۶ ۸۴ - كتاب كفارات الأيمان چاہیئے۔اس کے مقابلہ میں جب سورہ مجادلہ کی آیت میں دوماہ کے روزوں کے مقابلہ کی صورت تجویز کی گئی ہے تو وہاں یہ الفاظ رکھے گئے ہیں کہ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پھر یوں کیا جاوے۔پس غلام کے آزاد کئے جانے کی صورت کے مقابلہ میں لازماً ان الفاظ کا آنا کہ اگر کوئی غلام نہ پاوے“ اس بات میں کوئی شبہ نہیں چھوڑتا کہ اسلام کی انتہائی غرض موجود الوقت غلاموں کی کلی آزادی تھی۔“ (سیرت خاتم النبیین من این صفحه ۴۴۰ تا ۴۴۲) باب ۷ عِتْقُ الْمُدَبَّرِ وَأُمّ الْوَلَدِ وَالْمُكَاتَبِ فِي الْكَفَّارَةِ وَعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا کفارہ میں مدبر اور اُم الولد اور مکاتب کا آزاد کرنا نیز ولد الزنا کا آزاد کرنا وَقَالَ طَاوُسٌ يُجْزِئُ الْمُدَبَّرُ وَأُمُّ الْوَلَدِ اور طاؤس نے کہا: مد بر اور اُم الولد کا آزاد کرنا کافی ہو جاتا ہے۔٦٧١٦: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۷۱۶: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار) سے، أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ مَمْلُوكًا لَهُ عمرو نے حضرت جابر سے روایت کی کہ انصار میں وَلَمْ يَكُن لَّهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ سے ایک شخص نے (کہا) میری موت کے بعد میرا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ غلام آزاد ہو گا اور اس کے پاس اُس کے سوا اور کوئی جائیداد نہ تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّجَّامِ بِثَمَانِ پہنچی۔آپ نے فرمایا: مجھ سے یہ غلام کون خریدے مِائَةِ دِرْهَم فَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ گا؟ تو نعیم بن نحام نے اُسے آٹھ سو درہم میں خرید يَقُولُ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ۔لیا۔(عمرو بن دینار کہتے تھے ) میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: یہ ایک قبطی غلام تھا جو پہلے ہی سال مر گیا۔أطرافه (۲۱٤۱ ، ۲۲۳۰، ۲۳۲۱، ۲۴۰۳، ۲۰۱۰، ٢٥٣٤، ٦٩٤٧، ٧١٨٦- شريح : عِتْقُ الْمُدَئِرِ وَأُقِمِ الْوَلَدِ وَالْمُكَاتَبِ فِي الْكَفَّارَةِ: کنارہ میں مدبر اور ام الولد اور مکاتب کا آزاد کرنا۔زیر باب روایت میں جس انصاری صحابی کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے ایک