صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 517 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 517

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۷ ۸۴ - كتاب كفارات الأيمان غلام کو مدبر کیا۔اس غلام کا نام یعقوب بیان کیا گیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء۲۳ صفحہ ۲۲۲) مد بر ایسے غلام کو کہتے ہیں جو اپنے مالک کے فیصلہ کے مطابق اُس کے مرنے کے بعد آزاد قرار پاتا ہے اور اُتم الولد اُس لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک کے بچے کی ماں بن جائے۔ایسی لونڈی کے بارے میں احادیث میں یہ ذکر ہے کہ وہ اپنے مالک کے مرنے پر آزاد ہو جاتی ہیں۔ے اور مکاتب اُس غلام کو کہتے ہیں جو اپنی قیمت مقرر کروا کر اپنے مالک سے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ کر لیتا ہے۔علامہ عینی نے ایسے غلاموں کو کفارہ کے طور پر آزاد کرنے کے متعلق فقہاء کے اختلاف کا ذکر کیا ہے۔امام مالک کہتے ہیں کہ جن امور میں گردن آزاد کرنا واجب ہو جاتی ہے ان میں مکاتب، مدبر، اتم والد اور ایسی گردن جس کی آزادی (کسی معاملہ سے) معلق ہو، آزاد کرنا جائز نہیں۔انتم ولد کے متعلق امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کی بھی یہی رائے ہے البتہ مکاتب ( کو بطور کفارہ آزاد کرنے) کے متعلق امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنی مکاتبت میں سے کچھ ادا کر چکا ہو تو جائز نہیں، بصورت دیگر جائز ہے۔مدبر کے معاملہ میں امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ (کفارہ کی ادائیگی میں ) اس کا آزاد کرنا جائز ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲۲۱) عنوانِ باب میں امام بخاری نے ولد الزنا کو بھی بطور کفارہ آزاد کرنے کا ذکر کیا ہے۔اس بارہ میں علامہ ابن حجر نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایات کے حوالے سے اس کے آزاد کرنے کے جواز کو بیان کیا ہے۔حضرت عائشہ کی بھی ایک روایت ہے کہ ماں باپ کے گناہ کا اس پر بوجھ نہیں ہو گا۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (الانعام:۱۶۵) (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۲۲۱) نیز حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بھی نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک جان ہی تو ہے۔یعنی آزادی اس کا بھی حق ہے۔(فتح الباری جزءا اصفحہ ۷۳۲) امام بخاری نے زیر باب طاؤس بن کیسان کی تعلیق درج کی ہے جس میں مدبر اور اتم ولد کو کفارہ کی ادائیگی میں آزاد کرنا کافی قرار دیا گیا ہے۔جبکہ زیر باب حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو اُس کے مالک کے محتاج ہو جانے کے باعث فروخت کیا تا کہ اس کا مالک اپنی ضروریات پوری کر سکے۔علامہ کرمانی معنونہ حدیث کا عنوانِ باب سے تعلق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ جب مدبر کو فروخت کرنا جائز ہے تو اُس کو (کفارہ کے طور پر) آزاد کرنا بھی جائز ہے اور دیگر امور جن کا ذکر کیا گیا ہے اُن کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔(الکواکب الدراری للکرمانی، جزء ۲۳ صفحہ ۱۴۶) ام الولد کی آزادی کے متعلق روایات میں صراحت ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمُّ الْوَلَدِ حُرَّةٌ وَإِنْ كَانَ سقطا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتم ولد (بیوی) بہر حال آزاد کبھی جائے گی خواہ بچہ کی پیدائش اسقاط کی صورت میں ہی ہو۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب البيوع، جزء ۲ صفحه ۲۳) (المعجم الكبير للطبراني، باب العين، عكرمة عن ابن عباس، جزءا ا صفحه ۲۳۹)