صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 513 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 513

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۳ ۸۴- كتاب كفارات الأيمان زمانہ کے لحاظ سے ان کے اوزان میں فرق بیان کیا ہے۔ بعض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ایک مڈ کا وزن ۱۲۵ گرام اور بعض نے ۵۱۰ گرام بیان کیا ہے۔ اسی طرح ایک صاع کا وزن دو کلو چالیس گرام سے تین کلو گرام تک بیان کیا گیا ہے۔ (توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، كتاب الصيام ، جزء ۳ صفحه ۵۱۴) (فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام ، كتاب الزكاة، صدقة الفطر من تجب، جزء ۳ صفحه ۸۸) بَاب ٦ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ (المائدة: ٩٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یا ایک (غلام کی) گردن کا آزاد کرنا وَأَيُّ الرِّقَابِ أَزْكَى؟ اور کونسی گردنوں کا آزاد کر نا زیادہ مناسب ہے ؟ ٦٧١٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ۶۷۱۵: محمد بن عبد الرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ داؤد بن رشید نے ہمیں بتایا۔ ولید بن مسلم نے ہم بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ سے بیان کیا۔ ولید نے ابو غسان محمد بن مطرف مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَلِيِّ سے ، ابو غسان نے زید بن اسلم سے ، زید نے علی رم بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ عَنْ بن حسین سے ، علی نے سعید بن مرجانہ سے ، سعید أَبِي هُرَيْرَةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابو ہریرہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُّسْلِمَةٌ صلی العلیم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا اللہ اس کے ہر ایک عضو أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْرٍ مِّنْهُ عُضْوًا مِّنَ کے بدلے میں اُس کا ایک ایک عضو آگ سے آزاد النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ۔ طرفه: ٢٥١٧۔ کر دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں ( آگ سے رہائی دے گا۔) تشریح : أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَ : یا ایک (غلام کی ) گردن کا آزاد کرنا۔ کفارہ کے لئے غلام کو آزاد کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) کفارہ قسم ۔ اس میں غلام کو آزاد کرنا مطلق ہے یعنی اس میں کوئی تخصیص نہیں کہ کون ساغلام آزاد کیا جائے۔ (۲) کفارہ قتل خطا۔ اس کفارہ میں یہ پابندی ہے کہ جس غلام کو آزاد کیا جائے وہ مؤمن ہو۔ کفارہ قسم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا عَقَدْ ثُمَّ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَتِهِ