صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 510
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱۰ ۸۴- كتاب كفارات الأيمان أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ کیا تم اتنی طاقت رکھتے ہو کہ ایک گردن کو آزاد کرو؟ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو کیا دو مہینے قَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لگا تار روزے رکھ سکتے ہو ؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ خُذْ هَذَا نے فرمایا: تو کیا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ کہنے لگا: میں اتنی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں نبی فَتَصَدَّقْ بِهِ فَقَالَ أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَا بَنَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا ثُمَّ قَالَ خُذْهُ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے ۔ اسے لے لو اور فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ۔ اسے صدقہ میں دے دو۔ اس نے پوچھا: کیا اُس کو جو ہم سے زیادہ محتاج ہو ؟ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اسے لے لو اور اپنے گھر والوں کو یہ کھلاؤ۔ أطرافه: ۱۹۳۶ ، ۱۹۳۷ ، ٢٦٠٠ ، ٥٣٦٨ ، ٦٠٨٧، ٦١٦٤ ، ٦٧٠٩، ٦٧١٠، ٦٨٢١۔ بَابه : صَاعُ الْمَدِينَةِ وَمُدُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَكَتُهُ مدینہ والوں کا صاع اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مد اور اس کی برکت وَمَا تَوَارَثَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذَلِكَ اور مدینہ والے جو صاع اور مد صدی بعدی وراثتاً قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ۔ استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ ٦٧١٢ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ۶۷۱۲: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكِ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا قاسم بن مالک مزنی نے ہمیں بتایا۔ معید بن الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ السَّائِبِ عبد الرحمن نے ہم سے بیان کیا۔ جعید نے حضرت بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ سائب بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدًّا وَثُلُنَا ی ملی اسلام کے زمانہ میں صاع ایک مذ اور تہائی مد ہوا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ فَزِيدَ فِيهِ فِي زَمَنِ عُمَرَ کرتا تھا، وہی تمہارا د جو آج کل ہے۔ پھر عمر بن بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ۔ أطرافه: ۱۸۵۹، ۷۳۳۰ رض عبد العزیز کے زمانہ میں اس صاع کو بڑھا دیا گیا۔