صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 509
صحیح البخاری جلد ۱۵ یخ: ۵۰۹ ۸۴ كتاب كفارات الأيمان مَنْ أَعَانَ الْمُغْسِرَ فِي الْكَفَّارَةِ: جس نے کفارہ ادا کرنے میں تنگ دست کی مدد کی۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ یہ باب قائم کر کے امام بخاری نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا روزہ توڑنے والے ایک مفلس اور غریب شخص کی کفارہ ادا کرنے میں مدد فرمائی تھی اسی طرح قسم کے کفارہ میں بھی تنگ دست کی مدد و اعانت کرنا جائز ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۷۲۷) یہ واقعہ بخاری میں متعدد بار آیا ہے اور ہر جگہ امام بخاری نے اس سے نیا استدلال کیا ہے۔یہاں بھی قسم کا ذکر تو نہیں مگر باب نمبر ۲ کے عنوان میں مَتَى تَجِبُ الْكَفَّارَةُ عَلَى الْغَنِي وَالْفَقِير کی تعلیق سے اور باب نمبر ۲ اور باب نمبر ۳ کی ذیلی حدیث سے ایک غریب آدمی پر روزہ کی حالت میں جماع پر اسے کفارہ ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔روزہ میں بھی انسان ایک قسم کی پابندی میں ہے کہ وہ اس دوران کھانے پینے اور شہوات سے مجتنب رہے گا۔اس پابندی کو توڑنے پر اسے کفارہ دینے کا حکم دیا اور اس کفارہ میں بھی اختیار کا بیان ہے کہ اگر تم غلام آزاد نہیں کر سکتے تو دو ماہ کے روزے رکھو۔اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔یہی صورت قسم کے کفارہ میں ہے کہ کفارہ کی مختلف صورتوں میں اختیار دیا گیا ہے۔زیر باب یہ حدیث اسلام کے فلسفہ سزا پر بہت عمدہ روشنی ڈالتی ہے کہ اسلامی سزاؤں کا مقصد کسی کو اذیت دینا نہیں بلکہ اصلاح ہے۔جب اصلاح کا یہ معیار ہو کہ مجرم اقبال جرم کرنے خود حاضر ہو جائے اور اس کی طبیعت پر اس جرم کا اتنا بوجھ ہو کہ وہ اس بے چینی کی آگ میں سلگ رہا ہو اور اس آگ کو بجھا کر سکون حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو قانون کے حوالہ کرتا ہو تو اسے مزید کوئی سزا دینا ضروری نہیں بلکہ اس کی یہ حالت ایسی قابل رحم تھی کہ اس کی اور اس کے اہل و عیال کی مالی مدد کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔یہ ہے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ معاشرہ۔اللهم صل علی محمد و آل محمد بَاب ٤ : يُعْطِي فِي الْكَفَّارَةِ عَشَرَةَ مَسَاكِينَ قَرِيبًا كَانَ أَوْ بَعِيدًا کفارہ میں دس مسکینوں کو دے خواہ قریبی ہوں یا ڈور کے ٦٧١١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۷۱۱: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سے ، زہری نے حمید سے، حمید نے حضرت ابو ہریرہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا شَأْنُكَ قَالَ وَقَعْتُ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا۔عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ هَلْ تَجِدُ آپ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ بولا۔رمضان میں مَا تُعْتِقُ رَقَبَةٌ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔آپ نے فرمایا: