صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 503 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 503

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۰۳ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور هَلْ يَدْخُلُ فِي الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الْأَرْضُ وَالْغَنَمُ وَالزَّرْعُ وَالْأَمْتِعَةُ: کیا قسموں اور نذروں میں زمین اور بکریاں اور کھیتیاں اور اسباب بھی داخل ہوتے ہیں ؟ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ ”اموال“ کی تعریف میں فقہاء کے درمیان شدید اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک صرف سونا چاندی ہی اموال کہلاتے ہیں جبکہ بعض نے ساز و سامان اور کپڑے بھی اموال میں داخل قرار دیتے ہیں۔بعض کے نزدیک تو یہ لفظ صرف اونٹوں یا مویشیوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے اور بعض نے مال سے مراد صرف زکوۃ کے نصاب کو پہنچی ہوئی اشیاء لی ہیں اور جو نصاب کو نہ پہنچی ہوں انہیں وہ اموال نہیں کہتے۔جبکہ بعض فقہاء ہر چیز کو جو قبضہ اور ملکیت میں ہو ، مال قرار دیتے ہیں۔اس اختلاف کے تابع قسم اور نذر کے معاملہ میں بھی فقہاء کی مختلف آراء ہیں۔یعنی اگر کوئی یہ قسم کھائے یا نذر مانے کہ وہ اپنا سارا مال صدقہ کر دے گا تو اس کی قسم یا نذر کا اطلاق صرف ان اموال پر ہو گا جن پر زکوۃ واجب ہو گئی ہو یا ہر اس چیز پر ہو گا جو مال کی تعریف کے نیچے آتی ہو۔امام بخاری نے یہ باب قائم کر کے اس مسئلہ کا حل پیش کیا ہے۔امام بخاری جب کسی باب کا عنوان هل ( حرف استفہام) سے شروع کرتے ہیں تو اس میں زیادہ تر صورت استثنائی مد نظر ہوتی ہے اور اس استفتاء کا جواب امام بخاری زیر باب روایات سے دیتے ہیں۔زیر باب روایات سے امام بخاری نے اموال کی بعض قسموں کا ذکر کر کے اس سوال کا جواب دیا ہے۔جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک ایسی زمین پانی ہے کہ اس سے بہتر مال مجھے (اس سے پہلے ) کبھی نہیں ملا۔اور حضرت ابو طلحہ کا قول کہ میرے اموال میں سے بیر حاء کا باغ مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔اور روایت نمبر ۶۷۰۷ میں اموال (جانور) جائیدادیں، کپڑے اور متاع بیان کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۷۲۲،۷۲۱)