صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 504
صحیح البخاری جلد ۱۵ لم بسم الله الرحمن الرح ۸۴ كتاب كفارات الأيمان ٨٤ - كِتَابُ كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ قسموں کے کفارے کے متعلق احکام کفارات کفارۃ کی جمع ہے ، اس کی اصل ك ف رہے، اس کے لغوی معنے ڈھانکنے اور چھپانے کے ہیں۔قرآن کریم نے کاشتکاروں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔فرماتا ہے : كَمَثَلِ خَيْثٍ أَعْجَبَ الْكَفَارَ نَبَاتُه (الحديد: ۲۱) یعنی اس کی حالت بادل سے پیدا ہونے والی کھیتی کی سی ہے جس کا اگناز میندار کو بہت پسند آتا ہے۔عرب کہتے ہیں: کفرت الشمس النجوم۔سورج نے ستاروں کو چھپا دیا۔بادل کو بھی کافر کہا جاتا ہے۔وہ سورج کو چھپا لیتا ہے۔اہل عرب رات پر بھی کافر کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں کہ اس کی تاریکی ہر چیز کو چھپالیتی ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۷۲۳) کفر کا لفظ گناہوں کو چھپا دینے اور ان کے بد نتائج کو مٹادینے کے معنوں میں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔فرماتا ہے: وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَبِ امَنُوا وَاتَّقَوا لَكَفَرْنَا عَنْهُمْ سَيْاتِهِمْ (المائدة: ۲۲) اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی برائیاں اُن سے دور کر دیتے۔شرعی اصطلاح میں کفارہ اُس مال، قربانی یا صدقہ وغیرہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جو قسم توڑنے والا دیتا ہے۔قتل اور ظہار کے تاوان کو بھی کفارہ کہا جاتا ہے۔اس میں لغت کے دونوں معنے پائے جاتے ہیں یعنی کفارہ قسم توڑنے کے گناہ کو مٹادیتا ہے یا اس کے اس عمل کو چھپا دیتا ہے۔گویا اس نے وہ کام کیا ہی نہیں۔امام بخاری نے کتاب کفارات الایمان کو دس ابواب میں تقسیم کیا ہے اور اس کی ذیل میں ۱۴، مرفوع احادیث نیز تعلیقات، آثار و اقوال درج کئے ہیں۔بَاب ۱ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَكَفَّارَتْةٌ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ (المائدة: ٩٠) اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اس وقت کہ حِينَ نَزَلَتْ : فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ أَوْصَدَقَةٍ جب یہ آیت اتری: اس پر روزوں یا صدقہ یا قربانی او نُسُكِ (البقرة: ١٩٧)۔کی قسم سے کچھ فدیہ (واجب) ہو گا۔وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ اور حضرت ابن عباس اور عطاء اور عکرمہ سے منقول مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَوْ أَوْ فَصَاحِبُهُ ہے کہ جہاں بھی قرآن کریم میں أَو أَو کا لفظ آیا بِالْخِيَارِ وَقَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے تو وہاں جس کا ذکر ہوتا ہے اس کو اختیار دیا جاتا