صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 490
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۹۰ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نا جائزہ وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے۔“ لملفوظات جلد ۵ صفحه (۲۳۱) بَاب ٢٦ : الْوَفَاءُ بِالنَّذْرِ نذر پوری کرنا وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : يُوفُونَ بِالنَّذْرِ ۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ نذر پوری کرتے ہیں۔ (الدهر : ۸) ٦٦٩٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ۲۲۹۲: یحی بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ فلح حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ سعید بن حارث نے ہم بْنُ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: کیا تمہیں نذر سے منع إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نہیں کیا گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُ نہ کسی بات کو آگے کرتی ہے اور نہ پیچھے کرتی ہے بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ نذر کے ذریعہ بخیل سے وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ۔ أطرافه: ٦٦٠٨، ٦٦٩٣- کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ ٦٦٩٣ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۶۲۹۳: خلاد بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ أَخْبَرَنَا (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ روایت کی کہ عبد اللہ بن مرہ نے ہمیں خبر دی۔ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا کہ وہ کسی بات کو نہیں ٹالتی بلکہ اس يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ۔ أطرافه: ٦٦٠٨، ٦٦٩٢- کے ذریعہ بخیل سے کچھ نکالا جاتا ہے۔