صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 481
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۱ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اسی طرح لفظ ”الشکر شراب کے علاوہ ایسے رس کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو ابھی نشہ آور نہ ہوا ہو۔ امام بخاری کا مقصد اس باب سے فقہاء کے اس اختلاف کو رفع کرنا ہے کہ اگر نبیذ نہ پینے کی قسم کھانے والا کوئی ایسی چیز پی لے جو لفظ نبیذ کی ذیل میں آتی ہو یا ہئیت میں اس کے مشابہہ ہو تو کیا وہ اپنی قسم توڑنے والا ٹھہرے گا یا نہیں ؟ اس بارے میں جمہور کا موقف یہی ہے کہ جو شخص نبیذ کو معین کر کے قسم کھائے کہ وہ اسے نہیں پنے گا تو اس کے علاوہ کوئی اور چیز پینے سے وہ اپنی قسم کو نہیں توڑے گا۔ طلا، سکر اور عصیر مخصوص مشروبات کے نام ہیں۔ ان پر نبیز کے لفظ کا اطلاق بالعموم نہیں ہوتا۔ اس لئے نبیذ نہ پینے کی قسم کھانے والا ان مشروبات میں سے کوئی مشروب پی لے تو وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہیں کہلائے گا۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲۰۰) ( فتح الباری جزءا ا صفحه ۶۹۳) باب ۲۲ إِذَا حَلَفَ أَنْ لَّا يَأْتَدِمَ فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْرٍ وَمَا يَكُونُ مِنْهُ الْأُدْمِ اگر کوئی قسم کھائے کہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے کھجور کو روٹی کے ساتھ کھالیا اور وہ چیز جو سالن کے طور پر استعمال ہو سکے (اُس سے کھا لینا) ٦٦٨٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۶۶۸۷ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد الرحمن عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ بن عابس سے، عبد الرحمن نے اپنے باپ سے ، ان عَنْهَا قَالَتْ مَا شَبعَ آلُ مُحَمَّدٍ کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُر کی۔ آپ فرماتی تھیں کہ آل محمد کی ہم نے اس وقت صلی علیم مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ۔ تک کہ آپ اللہ سے جاملے، تین دن بھی گیہوں صا الله کی روٹی سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی۔ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا اور ابن کثیر نے کہا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ بتایا۔ عبد الرحمن نے اپنے باپ سے روایت کرتے بِهَذَا۔ ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے پوچھا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ أطرافه: ٥٤٢٣، ٥٤٣٨ -