صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 471 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 471

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۱ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا عَنْهُ فرماتے ہوئے مجھ سے درگزر کرے اور وہ مسطح کو أَبَدًا ۔ وہ خرچ دوبارہ دینے لگے جو اُس کو دیا کرتے تھے اور کہا: اللہ کی قسم میں اب اس خرچ کو اس سے کبھی نہیں چھینوں گا۔ أطرافه: ٢٥٩٣، ٢٦٣٧، ٢٦٦١ ، ۲٦٨٨، ۲۸۷۹، ٤٠۲۵، ٤١٤١، ٤٦٩٠، ٤٧٤٩، ٤٧٥٠، ٤٧٥٧، ٥٢١٢، ٦٦٦٢، ٧٣٦٩، ۷۳۷۰، ٧۵۰۰ ٧٥٤٥۔ ٦٦٨٠: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۶۸۰ : ابو معمر (عبداللہ بن عمر و مقعد ) نے ہم سے عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ بیان کیا کہ عبد الوارث (بن سعید ) نے ہمیں بتایا۔ عَنْ زَهْدَمٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے قاسم سے، الْأَشْعَرِي فَقَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ قاسم نے زہدم (بن مضرب جرمی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِّنَ الْأَشْعَرِينَ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ پاس تھے تو انہوں نے نے کہا: میں کچھ اشعری لوگوں سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَّا يَحْمِلَنَا میں آپ سے ایسے وقت میں ملا کہ آپ ناراض ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ تھے۔ ہم نے آپ سے سواریاں مانگیں تو آپ نے عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا ۔ پھر اس کے بعد آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں جو بھی ایسی قسم کھا بیٹھوں گا کہ پھر اس کے سوا کسی اور بات کو بہتر سمجھوں گا تو ان شاء اللہ ضرور ہی وہی کروں گا جو بہتر ہو اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ أطرافه: ۳۱۳۳، ٤٣٨٥، ٤٤١٥ ، ٥٥١٧، 551٨، 6613، 6649، ٦٦٧٨، ٦٧١٨، ٦٧١٩، ٦٧٢١، ٧٥٥٥۔ تشريح : الْيَمِينُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَفِي الْمَعْصِيَةِ وَفِي الْغَضَبِ: اس چیز کے متعلق قسم کھانا جس کا وہ مالک نہیں ہے اور گناہ کے لئے اور غضب کی حالت میں قسم کھانا۔ عنوان باب تین امور پر مشتمل ہے۔ (1) اس چیز کے متعلق قسم کھانا جس کا وہ مالک نہیں۔ (۲) معصیت کی قسم کھانا۔ (۳) غصہ کی حالت میں قسم کھانا۔ زیر باب روایات میں امام بخاری نے تینوں امور کے متعلق اسی ترتیب سے روایات درج کی ہیں۔ روایت اول