صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 465
صحیح البخاری جلد ۱۵ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۴۶۵ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور قسم اپنی ذات میں وقعت رکھتی ہے یا نہیں؟ اگر رکھتی ہے تو بیشک بعض لوگ اُسے وقعت نہ دیں۔ ان کی وجہ سے ایک سچائی کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ اگر کوئی خدا ہے تو اُس کی جھوٹی قسم کھانا نے کھانا یقیناً سخت عذاب کا موجب ہونا ا موجب ہونا چاہیئے بشر طیکہ دنیا کو اُس سے کوئی بڑا نقصان پہنچتا ہو، لغو قسم نہ ہو۔“ ( تفسیر کبیر ، تفسیر سورۃ النازعات، جلد ۸ صفحه ۸۲) باب ۱۷ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (آل عمران: ۷۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ سے تھوڑا سا مول لیتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ اُن کو دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَلَا تَجْعَلُوا الله اور اللہ جل ذکرہ کا یہ فرمانا: اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ عُرْضَةً لا يُمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَ تَتَّقُوا وَ نہ بناؤ کہ تم نیکی اور تقویٰ اور لوگوں کے درمیان تُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اصلاح نہیں کروگے۔ اور اللہ خوب سنتا ہے خوب (البقرة: ٢٢٥) جانتا ہے۔ اردو وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اور اللہ جل ذکرہ کا یہ فرمانا: تم اللہ کے عہد کے ذریعہ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلًا إِنَّمَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ سے تھوڑا مول نہ لو کیونکہ اللہ کے پاس جو ہے وہ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) (النحل: ٩٦) تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ اور اللہ کے وَ أَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عُهَدُ ثُمَّ وَلَا تَنْقُضُوا عہد کو جب تم عہد کرو پورا کرو اور قسموں کو ان الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ کے مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو خصوصاً جبکہ تم اللهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا (النحل : ٩٢) نے اللہ کو اپنا ضا من قرار دیا ہے۔ ٦٦٧٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۶۶۷۲: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش