صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 455
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۵ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور يُؤَاخِذُ كُمْ کے الفاظ بیان فرمائے ہیں۔ یعنی اگر وقتی جوش کے ماتحت ایسی قسم کھائی جائے تو گناہ نہ ہو گا۔ اگر جان بوجھ کر ایسی قسم کوئی کھالے تو اُسے گناہ بھی ہو گا۔“ ( تفسیر صغیر، سورة البقرة، حاشیہ آیت ۲۲۶) باب ١٥ : إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الْأَيْمَانِ اگر قسم کھانے کے بعد بھول کر اس کو توڑ ڈالے وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَلَيْسَ عَلَيْكُمُ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تم پر اس امر کی وجہ سے کوئی جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَاتُم بِهِ (الأحزاب: ٦) و گناہ نہیں جو تم نے غلطی سے کیا اور نیز فرمایا: جو میں قَالَ لَا تُؤَاخِذُ نِي بِمَا نَسِيتُ (الكهف : ٧٤) بھول گیا اُس کی وجہ سے مجھ سے مؤاخذہ نہ کرو۔ ٦٦٦٤ : حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ۶۶۶۴ : خلاد بن یحی نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ زرارہ أَوْفَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ بن اولی نے ہمیں بتایا۔ زرارہ نے حضرت ابو ہریرہ اللهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ - أَوْ سے روایت کی۔ حضرت ابوہریرہ اس حدیث کو حَدَّثَتْ - بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ آنحضرت تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ أَوْ تَكَلَّمْ۔ نے میری اُمت کے وہ خیالات معاف کر دیئے أطرافه: ٢٥٢٨، ٥٢٦٩۔ ہیں جو دلوں میں اُٹھتے یا پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ نکالے۔ ٦٦٦٥ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ۶۲۶۵: عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا یا محمد أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ (بن يحي) نے ہمیں بتایا۔ محمد نے ابن جریج سے سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے ابن شہاب عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عیسی بن طلحہ نے مجھ سے بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ (دسویں ذی الحج ) لوگوں سے مخاطب تھے کہ اتنے