صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 456
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۶ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللهِ كَذَا وَكَذَا { قَبْلَ میں ایک شخص اُٹھ کر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا یا رسول اللہ ! میں خیال کرتا تھا کہ فلاں فلاں کام رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا فلاں فلاں کام سے پہلے کرنا چاہیے۔ پھر ایک دوسرا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ شخص اُٹھا اور ان میں سے تین کاموں کا نام لے کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلْ وَلَا خَرَجَ لَهُنَّ کہنے لگا: یا رسول اللہ میں یوں یوں خیال کرتا تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اُن سب کاموں كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ کے متعلق فرمایا: اب کر لو کچھ حرج نہیں اور اس دن شَيْءٍ إِلَّا قَالَ افْعَلْ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ۔ آپ سے کسی بات کے متعلق بھی نہیں پوچھا گیا مگر آپ نے یہی فرمایا کہ اب کر لو کچھ حرج نہیں۔ أطرافه: ۸۳ ، ١٢٤، ۱٧٣٦، ۱۷۳۷، ۱۷۳۸ ٦٦٦٦ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ٢٦٦٦ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابو بکر حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد العزیز رُفَيْعٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ بن رفع سے، عبدالعزیز نے عطاء بن ابی رباح) اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِی روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کنکریاں پھینکنے سے پہلے میں قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ حَلَقْتُ قَبْلَ نے طواف زیارت کر لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ حرج نہیں۔ دوسرا شخص بولا: میں نے ذبح کرنے ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ سے پہلے سرمنڈ والیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔ ایک اور شخص بولا: کنکریاں پھینکنے سے پہلے میں نے ذبح کر لیا۔ آپ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں۔ أطرافه: ٨٤، ۱۷۲۱، ۱۷۲۲، ۱۷۲۳، ١٧٣٤، ١٧٣٥- ٦٦٦٧ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۲۲۶۷ : اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ بن عمر نے ہم ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۶۶۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔