صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 446
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۶ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور تشريح : إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَوْ شَهِدْتُ بالله: اگر کوئی یوں کہے کہ میں الہ کی قسم کھاکر شہادت دیتا ہوں یا میں نے اللہ کو گواہ ٹھہرا کر قسم کھائی۔ زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ ایک زمانہ آئے ا تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتْهُ۔ یعنی ان میں سے ایک قسم سے پہلے گواہی دے گا اور گواہی سے پہلے قسم کھائے گا۔ اس میں ان پیشہ ور گواہوں کا ذکر ہے جو جھوٹی قسمیں کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان کی نہ گواہی قابل اعتبار ہوتی ہے نہ قسم۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گواہ کا گواہی کے لئے خود پیش ہونا اُس کی شہادت کو مشتبہ کر دیتا ہے کہ وہ صاحب غرض ہے یا شہادت میں اس کو دلچسپی ہے۔ فقہاء کے نزدیک نہ صرف معصیت ہی شہادت کو مجروح کرنے والی ہے بلکہ اور باتیں بھی ہیں جو بظاہر معصیت تو نہیں لیکن شروط عدالت کے منافی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ سے ظاہر ہے کہ آپ نے بے انصافی والی بات میں گواہ بننا پسند نہیں فرمایا اور آج کل جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذکر مخبر صادق علیہ السلام نے قبل از وقت بطور پیشگوئی فرما دیا تھا۔ شہادت عدالتی کارروائی کے لئے ایک مضبوط بنیاد ہے۔ ہے۔ جب شہادت کا مذکورہ بالا حال ہو تو عدل و انصاف کہاں قائم رہ سکتا ہے۔ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی مذکورہ ہو ورہ بالا سند ہی سے مروی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ہم بچے تھے اور ہمیں بلا ضرورت شہادت سے منع کیا جاتا، تا با تا، تا عادات نہ بگڑیں۔“ (ترجمه و شرح صحیح البخارى، كتاب الشهادات ، باب لا يَشْهَدُ عَلَى شَهَادَةِ جَوْرٍ إِذَا أُشْهِدَ، جلد ۴ صفحہ ۷۱۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لئے ایک ذریعہ ہے اور خدا کسی ذریعہ ثبوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اُس کی حکمت تلف ہوتی ہے۔ یہ طبعی امر ہے کہ جب کوئی انسان ایک متنازعہ فیہ امر میں گواہی نہ دے تب فیصلہ کے لئے خدائی گواہی کی ضرورت ہے اور قسم خدا کو گواہ ٹھہرانا ہے۔ “ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۰،۲۹) باب ۱۱ : عَهْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اللہ عز و جل کا عہد ٦٦٥٩: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۲۶۵۹ : محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ (محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٌّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے،