صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 438 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 438

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۳۸ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور بَابه : لَا يُخْلَفُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ لات و عزیٰ کی قسم نہ کھائی جائے اور نہ ہی طاغوتوں کی ٦٦٥٠ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۶۵۰: عبد الله بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ معمر نے زہری سے ، زہری نے حمید بن عبد الرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ سے حمید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَنْهُ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ روایت کی۔آپ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کا نام لیا تو وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کرے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ میں تم سے جو اکھیلتا ہوں تو وہ صدقہ دے۔عن وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ۔أطرافه -٤٨٦٠، ٦١٠، ٦٣٠١ تشریح:لا لا يُخلَفُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَلَا بِالطَّواغیت: لات و عزیٰ کی قسم نہ کھائی جائے اور نہ ہی طاغوتوں کی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خد اتعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رؤیت کا قائم مقام ٹھہر اوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کا اصل مفہوم شہادت ہی ہے۔جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اُس سے وہ فائدہ اُٹھا دے جو ایک شاہد رؤیت کی شہادت سے اُٹھانا چاہیئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے، صریح کلمہ کفر ہے۔اس لئے خدا تعالی کی تمام کتابوں میں انسان کیلئے یہی تعلیم ہے کہ غیر اللہ کی ہر گز قسم نہ کھاوے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۹۶٬۹۵)