صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 439 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 439

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۳۹ - كتاب الأيمان والنذور بَاب ٦: مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَّمْ يُحَلَّفْ جس نے کسی بات پر قسم کھائی گو اسے قسم نہ دی گئی ہو ٦٦٥١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ۲۶۵۱: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہ بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی الله ونم وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آپ اسے پہنا يَلْبَسُهُ فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ کرتے تھے اور اس کے نگینہ کو ہتھیلی کی طرف رکھتے فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ تھے۔لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں اس کے بعد عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ آپ منبر پر بیٹھے اور اُس انگوٹھی کو اُتار ڈالا اور فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنا کر تا تھا اور اس کا نگینہ اندر کو رکھتا۔یہ کہہ کر آپ نے اسے پھینک دیا پھر فرمایا: اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔یہ أَلْبَسْهُ أَبَدًا فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ۔دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا أطرافه ٥٨٦٥، ٥٨٦٦، ٥٨٦ ٥٨٧٣، ٥٨٧٦، ۷۲۹۸- تشريح: مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِن لَّ يُخلف: جس نے کسی بات پر قسم کھائی گوا سے قسم نہ دی گئی ہو۔زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ سونے کی انگوٹھی نہیں پہنیں گے حالانکہ کسی نے آپ سے قسم طلب نہیں کی۔عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنی بات کا یقین دلانے اور تاکید کے لئے وہ اپنے باپ دادا اور بتوں کی قسم کھاتے تھے۔آنحضرت صلی علیکم بھی اسی مقصد کے لئے قسم کھاتے تھے مگر غیر اللہ اور باپ دادوں کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے تھے تاکہ ان کی غیر اللہ کی قسم کھانے کی عادت کو چھڑایا جاسکے اور یہ امر بار بار ذہن نشین کرایا جائے کہ اگر تاکید اور یقین پیدا کرنے کے لئے قسم کھانی پڑے تو اللہ کی قسم کھائی جائے۔ابن منیر بیان کرتے ہیں کہ اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ اس جیسے صحیح اور حقیقی مقصد کے لیے قسم کھانا جائز ہے۔اور وہ مقصد یہ ہے کہ سونے کی انگوٹھی پہنے کی کراہت ان کے سامنے تاکید آبیان کر دی جائے۔المتوارى على تراجم أبواب البخاري لابن المنیر، صفحه ۲۲۱، ۲۲۲)