صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 437
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۳۷ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور متأولا او جاھلا) اول تو بعض لوگوں کو ذرا ذراسی بات پر اللہ کی قسم کھانے کی عادت ہوتی ہے ، عام رواج پڑ گیا ہے ، یہ اس طرح قسمیں کھانی بھی نہیں چاہئیں۔ بعض حالات میں بعض مجبوریوں کے تحت قسم کھانی پڑتی ہے تو اس وقت کھائی جائے اور یہ ذہن میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کو میں اس میں گواہ بنا رہا ہوں۔ آپ کو یہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس کے قریب کوئی انجانے میں بھی آسکے۔ پھر اگر کہیں سے ہلکا سا شائبہ بھی ہوتا کہ بعض عمل شرک کی طرف لے جانے والے ہیں، آپ اس کو سختی سے رڈ فرمایا کرتے تھے۔“ (خطبات ت مسرور، خطبه جمعه فرموده ۴ فروری ۰۵ ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۶۸) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: محاورة قسم کھانا یہ روز مرہ کے استعمال کی بات ہے۔ صحیح مسلم کتاب الایمان میں ایک حدیث آتی ہے کہ ایک شخص نے آکر ۔ کہ ایک شخص نے آکر حضرت نبی کریم صلی السلام سے صلی علیم سے اسلام کے بارہ میں سوال کیا۔ حضرت رسول کریم صلی ایم نے فرمایا: پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ کیا کوئی اور بھی نماز ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: اور کوئی نہیں سوائے نوافل کے اگر کوئی چاہے۔ پھر فرمایا: رمضان کے روزے فرض ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ کیا کوئی اور بھی روزے فرض ہیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں سوائے نفلی روزوں کے۔ پھر فرمایا: زکوۃ دو۔ اس نے سوال کیا کہ کیا اور کوئی بھی زکوٰۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اور کوئی نہیں سوائے صدقات کے اگر کوئی چاہے۔ اس کے بعد وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا اور کہتا جاتا تھا کہ خدا کی قسم نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا۔ اس پر حضرت نبی پاک علی الم نے فرمایا: یہ شخص کامیاب ہو گیا۔ اس کے باپ کی قسم اگر وہ سچا ہے اور اس پر قائم رہے تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ صا الترسل یہ مثال ان قسموں کی ہے جو محاورہ کی ذیل میں آتی ہیں۔ یہ لغو قسموں میں سے نہیں ہو سکتیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علم کی یہ شان ہرگز نہیں ہو سکتی کہ آپ کوئی لغو کام کریں۔ اس قسم کی جو قسمیں عاد تا کھائی جاتی ہیں اللہ ان سے درگزر فرماتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ارادہ کوئی فائدہ اٹھانے کے لیے قسم اُٹھائے تو اُس کا مواخذہ ہو گا۔“ (روزنامہ الفضل ربوہ، زنامه الفضل ربوه، ۱۳ نومبر ۱۹۹۹ء، صفحہ ۳)