صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 436
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۳۶ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا اور ہمیں پانچ اونٹ جو سفید کہانوں والے تھے دینے يَحْمِلُنَا ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللهِ کا حکم فرمایا۔جب ہم چلے ہم نے کہا: ہم نے کیا کیا ؟ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا رسول اللہ کی ایم نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں کوئی نُفْلِحُ أَبَدًا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّا سواری نہیں دیں گے اور آپ کے پاس کوئی سواری أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لَّا تَحْمِلَنَا نہیں کہ جس پر ہمیں سوار کریں، پھر ہمیں سواری بھی وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ دے دی۔ہم نے رسول اللہ صلی کی ایک کو آپ کی قسم رسول کے متعلق لا علمی میں رکھ کر ناجائز فائدہ اُٹھایا۔اللہ وَتَحَلَّلْتُهَا۔أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ وَاللهِ کی قسم ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔(یہ خیال کر لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا کے ہم آپ کے پاس واپس گئے اور کہا: ہم اس خَيْرًا مِّنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ لئے آئے تھے کہ ہم آپ سے سواری مانگیں۔آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواری نہیں دیں گے اور نہ ہی آپ کے پاس کوئی ہے جس پر آپ ہمیں سوار کریں۔آپ نے فرمایا: میں نے تو تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ نے تمہیں سواری دی۔اللہ کی قسم میں جو ایسی قسم کھاؤں کہ پھر اس کے علاوہ کسی اور کو بہتر سمجھوں تو ضرور ہی وہی کروں جو اس سے بہتر ہے اور اس کو توڑ کر اس کا کفارہ دے دوں۔أطرافه: ۳۱۳۳، ۱۳۸۰، ۱۴۱۰، ۰۰۱۷، ۵۱۸،۰، ٦٦۲۳ ٦٦٧ ، ٦٦٨٠، ٦٧١، ٦٧١٩، ٦٧٢١، ٧٥٥٥۔ح: لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُم: اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو پکار کر فرمایا کہ سنو اللہ تمہیں اپنے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔جسے قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔(بخاری، کتاب الادب، باب من لم ير اكفار من قال ذالك