صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 435 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 435

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۳۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادوں کی تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ۔قسمیں نہ کھایا کرو۔أطرافه: ۲٦٧٩، ۳۸۳۶، ٦۱۰۸، ٦٦٤٦، ٦٦٤٧، ٧٤٠١- ٦٦٤٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۶۶۴۹: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوہاب عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بن عبد المجید ثقفی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَم بن ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے، الْحَارِثِ قَالَ كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ان دونوں نے زہرم بن حارث سے روایت کی۔جَوْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِنِينَ وُدُّ وَإِحَاءَ فَكُنَّا انہوں نے کہا: جرم کے اس قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور برادری تھی۔ہم حضرت عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِبَ إِلَيْهِ ابو موسیٰ اشعری کے پاس (بیٹھے) تھے۔اتنے میں طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجِ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ ان کے سامنے کھانا رکھا گیا جس میں مرغ کا گوشت مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ تھا اور اُن کے پاس بنوتیم اللہ قبیلے کا سرخ رنگ کا الْمَوَالِي فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ فَقَالَ إِنِّي ایک شخص تھا جیسے کہ وہ غلاموں میں سے تھا تو رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ حضرت ابو موسیٰ نے اس کو بھی کھانے کے لئے لَّا آكُلَهُ فَقَالَ قُمْ فَلَأَحَدِثَنَّكَ عَنْ بلایا۔وہ کہنے لگا: میں نے اس کو کچھ کھاتے ہوئے ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ دیکھا تو مجھے اس سے گھن آئی اور میں نے قسم کھائی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِّنَ الْأَشْعَرِيِّينَ کہ اسے کبھی نہیں کھاؤں گا۔انہوں نے کہا: اٹھو آؤ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ بھی، میں تمہیں اس کے متعلق کچھ بتاتا ہوں۔میں وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ فَأُتِيَ رسول الله صل اللہ نیم کے پاس کچھ اشعری لوگوں سمیت آیا کہ ہم آپ سے سواری مانگیں۔آپ نے فرمایا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللہ کی قسم میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا اور بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ أَيْنَ میرے پاس ہے بھی نہیں جس پر میں تمہیں سوار النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ کروں۔پھر رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس غنیمت کے ذَوْدٍ غُرِ الدُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا کچھ اونٹ لائے گئے اور آپ نے ہمارے متعلق صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ دریافت فرمایا۔پوچھا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں ؟