صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 433 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 433

صحیح البخاری جلد ۱۵ سمسم ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیا ہوا کرتی تھی۔زیر باب ۱۸ روایات میں امام بخاری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کے ۴، الفاظ نقل کئے ہیں جو یہ ہیں: (۱) وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ۔(اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ) نو دفعہ۔وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ( اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے) پانچ دفعہ۔وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ محمد بیدہ۔(اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے) ایک دفعہ۔(۲) وَمُقَلْبِ الْقُلُوبِ۔(ولوں کو پھیرنے والے کی قسم) ایک دفعہ۔(۳) واللہ (اللہ کی قسم) ایک دفعہ۔(۴) وَرَبِّ الْكَعْبَة۔(اور کعبہ کے رب کی نم) ایک دفعہ۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کا اس باب کو قائم کرنے کا مقصد اُن الفاظ کا ذکر کرنا ہے جنہیں قسم کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عمو تایا اکثر استعمال فرمایا کرتے تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے الفاظ " لا هَا الله " آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً منقول نہیں بلکہ تقریر اثابت ہیں، کیونکہ روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔بعض اہل لغت کے نزدیک "لا تھا اللہ“ میں کھا “ بدل ہے ” و“ کا۔یعنی یہ دراصل لا واللہ“ ہے۔جبکہ بعض کے نزدیک ” یا “ بھی ایک حرف قسم ہے جیسے واللہ ، ہاللہ اور اللہ میں و، ب اور ت حروف قسم ہیں۔(فتح الباری جزءا اصفحہ ۶۴۱،۶۴۰) بَاب ٤ : لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ عُمَرَ رَضِيَ اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو ٦٦٤٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۶۴۶: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ نَّافِعِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن انہوں نے مالک سے ، مالک نے نافع سے، نافع نے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب الْخَطَّابِ - وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبِ سے آملے اور وہ ایک قافلہ کے ساتھ جارہے تھے، - يَحْلِفُ بِأَبِيهِ – فَقَالَ أَلَا إِنَّ اللَّهَ وہ اپنے باپ کی قسم کھارہے تھے۔آپ نے فرمایا: دیکھو! اللہ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاؤ۔جس نے قسم کھانی ہی ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللهِ أَوْ لِيَصْمُتْ۔أطرافه: ۲۶۷۹، ۳۸۳۶، ۶۱۰۸، ٤٦٦٤٧ ٦٦٤٨، ٧٤٠١- ٦٦٤٧ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ۶۶۴۷: سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ