صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 419
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۹ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّةٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی۔ انہوں نے أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا: یہ وہ حدیث ہے جو حضرت ابو ہریرہ نے ہم وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ سے بیان کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔۔۔ کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: ہم سب سے آخر میں ہیں، قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ أطرافه: ۲۳۸ ، ٨٧٦، ٨٩٦، ٢٩٥٦، ٣٤٨٦، ٦٨٨٧، ٧٠٣٦، ٧٤٩٥۔ ٦٦٢٥ : وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ۶۶۲۵ : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهِ لَأَنْ يَلِجُ أَحَدُكُمْ اللہ کی قسم اگر تم میں سے کوئی اپنی قسم پر جو اس بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَنْ نے گھر والوں کے متعلق کھائی ہے اڑ جائے تو یہ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ۔ اللہ کے نزدیک اسے زیادہ گنہگار کرنے والی ہوگی بنسبت اس کے کہ وہ اپنی قسم توڑ کر اس کا وہ کفارہ طرفه ٦٦٢٦- ادا کر دے جو اللہ نے اس پر مقرر کیا ہے۔ ٦٦٢٦ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي ابْنَ ۶۶۲۶ : اسحاق یعنی ابراہیم کے بیٹے نے ہم سے إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ بیان کیا کہ یحییٰ بن صالح نے ہمیں بتایا۔ معاویہ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةً بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔ معاویہ نے بچی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ بن ابی کثیر) سے، بچی نے عکرمہ سے، عکرمہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَلَجَّ فِي حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی أَهْلِهِ بِيَمِينٍ فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا لِيَبَرَّ يَعْنِي الْكَفَّارَةَ۔ طرفة: ٦٦٢٥ - قسم کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے متعلق اڑا رہے تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ وہ اپنی قسم کو پورا کرے یعنی کفارہ دے۔ تشريح : لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ : تمہاری قسموں میں جو میں جو لغو ہو اُس پر اللہ تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی لغو قسموں پر تم سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا۔ اس جگہ لغو قسموں سے تین