صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 420
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۲۰ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور قسم کی قسمیں مراد ہیں۔اول عادت کے طور پر قسمیں کھانا۔یعنی ہر وقت اللہ، اللہ ، ثم، اللہ کہتے رہنا۔دوم ایسی قسم جس کا کھانے والا یقین رکھتا ہو کہ وہ درست ہے لیکن اس کا یقین غلط ہو۔مثلاً کسی شخص کے متعلق قسم کھانا کہ وہ وہاں ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے آنے کے بعد وہاں سے چلا گیا ہو۔سوم ایسی قسم جو شدید غصہ کے وقت کھائی جائے جب ہوش و حواس ٹھکانے نہ ہوں یا حرام شے کے استعمال یا فرض و واجب عمل کے ترک کے متعلق کسی وقتی جوش کے ماتحت قسمیں کھالینا۔یہ سب قسمیں لغو ہیں اور ان کے توڑنے پر کوئی کفارہ نہیں۔چونکہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قسموں سے روکا تھا، اس لئے اب بتایا کہ مؤاخذہ صرف ایسی قسموں پر ہو گا جن کو لغو قرار نہ دیا جاسکے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ چونکہ مواخذہ نہیں ہو گا اِس لئے اب کسی احتیاط کی بھی ضرورت نہیں، بیشک رات دن لغو قسمیں کھاتے رہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے متعلق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۴) مومن لغو باتوں سے بھی پر ہیز کرتے ہیں۔پس لغو قسمیں کھانے والا یقینا مخطی یا گنہ گار ہے اور اُسے اپنے گناہ پر تو بہ اور ندامت کا اظہار کرنا چاہیئے۔ہاں اُن کے توڑنے پر کسی کفارہ کی ضرورت نہیں۔اِسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اللہ تعالٰی نے لا يُؤَاخِذُ كُھ کے الفاظ بیان فرمائے ہیں۔یعنی اگر وقتی جوش کے ماتحت ایسی قسم کھائی جائے تو گناہ نہ ہو گاہاں اگر جان بوجھ کر کوئی شخص ایسی قسم کھائے تو اُسے یقینا گناہ ہو گا۔بعض لوگوں نے لا يُؤَاخِذُ کے معنے لا بأس بِهِ يا لا حرج في ذلك کے کئے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں مگر یہ صحیح نہیں۔یہاں پر ایک تو مؤاخذہ کی نفی کی ہے اور دوسرے لغو قسموں سے پر ہیز کی تاکید کی ہے۔ولكن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمُ (البقرۃ:۲۲۶) میں گذشتہ تینوں قسموں کی نفی کر دی گئی ہے کیونکہ قسم عادتا ہو یا غصہ اور بے احتیاطی سے ہو، ان میں سے کوئی قسم بھی عمد آ نہیں ہوتی بلکہ بعض وقت تو انسان کو پتہ بھی نہیں لگتا اور وہ قسم کھا جاتا ہے۔پس کسب قلب سے مراد یہی ہے کہ عمد اقسم کھائی جائے۔ایک واقعہ کے متعلق وہ سمجھتا ہو کہ یوں ہے مگر پھر اس کے خلاف قسم کھا جائے۔ایسی قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ