صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 411
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۱ ۸۲- کتاب القدر سے بچ گئے۔مسلمان بیوقوف ہیں کہ اپنے سے طاقتور اور زبر دست لوگوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نادان تم ہو اور اندھے تم ہو۔تم سمجھتے ہو کہ مسلمان ہار جائیں گے اور کفار اُن پر غلبہ پالیں گے لیکن یہ نہیں ہو گا۔کیوں؟ اس لیے کہ خدا نے اپنی سنتِ مقررہ کے ماتحت کہ اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے مقدر کر چھوڑا ہے کہ مسلمان جیت جائیں گے۔پس یہاں ہر ایک عمل خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت سرزد ہونے کا ذکر نہیں بلکہ صرف اس امر کے مقدر ہونے کا ذکر ہے کہ مؤمن کفار پر غلبہ پائیں گے اور جیت جائیں گے۔نہ یہ کہ ڈاکہ مارنا، چوری کرنا ٹھگی کرنا، جھوٹ بولنا خدا نے لکھ دیا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلِى (المجادلة: ۲۲) میں نے مقدر کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول اپنے دشمنوں پر غالب رہیں۔پس اس آیت میں کتب سے مراد انسانی اعمال نہیں بلکہ رسول اور مؤمنوں کی فتح مراد ہے۔“ ( تقدیر الہی، انوار العلوم، جلد ۴ صفحه ۵۴۳) بَاب ١٦ : وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ (الأعراف: ٤٤) لَوْ أَنَّ اللهَ هَديني لكنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (الزمر : ٥٨) ہم تو ایسے نہیں تھے کہ راہ راست پر آتے اگر اللہ نے ہماری راہنمائی نہ کی ہوتی۔اور فرمایا: اگر اللہ میری راہنمائی کرتا تو میں بھی متقیوں میں سے ہی ہوتا۔٦٦٢٠: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۶۲۰: ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے جَرِيرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ جو کہ حازم کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ ابو اسحاق (طبیعی) سے، ابو اسحاق نے براء بن النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عازب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جنگ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ خندق کے دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی ڈھو رہے تھے اور یہ يَقُولُ: شعر پڑھتے جاتے تھے۔