صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 410 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 410

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۰ ۸۲ - كتاب القدر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو بتایا کہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون الطَّاعُونِ فَقَالَ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ الله کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا: یہ ایک عذاب عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللهُ رَحْمَةً تھا جو اللہ جن پر چاہتا بھیجا کرتا تھا۔ اب اللہ نے لِلْمُؤْمِنِينَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ اِس کو مؤمنوں کے لئے رحمت بنادیا ہے۔ جو بندہ يَكُونُ فِيهِ وَيَمْكُثُ فِيهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ بھی کسی ایسے شہر میں ہو کہ جس؟ و کہ جس میں یہ طاعون ہو الْبَلَدِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا اور وہ اس میں صبر سے اللہ کی رضا مندی چاہتے ہوئے ٹھہرا رہے اس شہر سے نکلے نہیں یقین کرتا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ۔ أطرافه : ٣٤٧٤، ٥٧٣٤ ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچے گی جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کر دی ہے تو اسے بھی ضرور اتنا ثواب ہو گا جتنا ثواب کہ ایک شہید کو ہوتا ہے۔ تشريح ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا: تو (ان ۔ اكتب الله لنا : تو (ان سے) کہہ دے ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لئے مقرر کر چھوڑا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " قُلْ أَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلنَا ۚ وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (التوبہ: (۵) کہ ہمیں نہیں پہنچے گا کچھ بھی مگر وہی جو اللہ نے لکھ چھوڑا ہے اللہ تعالیٰ ہی ہمارا مولیٰ ہے اور اسی پر توکل کرتے ہیں مؤمن۔ وہ کہتے ہیں کہ جب خدا کہتا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو پہلے اُس کے لیے لکھ چھوڑا گیا ہے۔ اب کھانا دانہ، کپڑالتا، روپیہ پیسہ جس قدر خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ اتنا اتنا فلاں کو ملے اس سے زیادہ یا کم نہیں ہو سکتا۔ یا یہ کہ فلاں فلاں کو فلاں طریق سے قتل کرے۔ یاکم یا فلاں فلاں جگہ فلاں کے ہاتھ سے پھانسی پائے۔ تو پھر انسان کا کیا اختیار؟ حالانکہ بات بالکل اور ہے۔ اس جگہ کفار کے ساتھ جنگ کا ذکر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ جب مسلمانوں کو جنگ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو منافق لوگ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا بندو بست پہلے سے کر رکھا تھا اس لیے ہم اس تکلیف