صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 412
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۲ ۸۲ - كتاب القدر وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم بھی راہ راست پر نہ وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا آتے۔ اور نہ روزے رکھتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا اس لئے تو ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور قدموں کو مضبوط رکھ اگر ہمارا مقابلہ ہو جائے۔ اور مشرکوں وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا نے ہی ہم پر زیادتیاں کی ہیں۔ جب کبھی وہ فتنے کا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ارادہ کرتے ہیں ہم انکار کرتے ہیں۔ إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا ۔ أطرافه : ۲٨٣٦، ۲۸۳۷، ۳۰۳۴، ٤١٠٤، ٤١٠٦، ٧٢٣٦۔ تشريح ۔ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْ لَا أَنْ هَدَانَا اللهُ : ہم تو ایسے نہیں تھے کہ راہ راست پر آتے اگر اللہ نے ہماری راہنمائی نہ کی ہوتی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: منکرین الہام کامل توحید سے بے نصیب ہیں اور ہرگز ممکن نہیں کہ ان کی روح میں سے سچے ایمانداروں کی طرح یہ آواز نکل سکے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لهُذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْلَا أَنْ هَدْنَا اللهُ - الجزو نمبر ۸ سب تعریفیں خدا کو ہیں۔ جس نے جنت کی طرف ہم کو آپ رہبری کی اور ہم کیا چیز تھے کہ خود بخود منزل مقصود تک پہنچ جاتے اگر خدا ر ہبری نہ کرتا۔ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی قدر شناسی خوب کی کہ جو صفتیں اس کی طرف منسوب کرنی واجب تھیں وہ اپنی عقل کی طرف منسوب کر دیں اور جو جلال اس کا ظاہر کرنا چاہیے تھا وہ اپنے نفس کا ظاہر کیا۔ اور جو جو طاقتیں اس کے لئے خاص تھیں اُن سب کے مالک آپ بن گئے۔ ان کے حق میں خداوند کریم نے سچ فرمایا ہے ۔ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا انْزَلَ اللهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ الجزو نمبرے یعنے الہام کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کا کچھ قدر شناخت نہیں کیا۔ اور اس کی رحمت کو جو بندوں کی ہریک حاجت کے وقت جوش مارتی ہے نہیں پہچانا۔ تب ہی انہوں نے کہا کہ خدا نے کوئی کتاب کسی بشر پر نازل نہیں کی۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه صفحه ۱۶۹)