صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 398
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹۸ -Ar - كتاب القدر بَاب ١٠ : وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا التى اريتكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ (بنی اسرائیل: ٦١) وہ رویا جو ہم نے تمہیں دکھائی تھی محض اس لیے دکھائی تھی کہ ہم اُسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنائیں ٦٦١٣ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۶۶۱۳: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عيينہ) نے ہمیں بتایا۔عمرو بن دینار) نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا ہم سے بیان کیا۔عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے جَعَلْنَا الرويا التي ارينكَ إِلَّا فِتْنَةٌ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ للنَّاسِ (بنی اسرائیل: ٦١) قَالَ ( یہ جو فرمایا:) اور جو رؤیا ہم نے تجھے دکھائی تھی رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله اسے ہم نے لوگوں کے لیے صرف امتحان کا ذریعہ بنایا تھا۔اُنہوں نے کہا: یہ آنکھ کا نظارہ ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ۔قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جس رات کہ آپ کو بیت المقدس کی طرف لے فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُومِ۔أطرافه : ٣٨٨٨، ٤٧١٦۔هي جایا گیا اور وہ درخت جسے قرآن میں لعنتی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔ريح : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَبِّكَ إِلَّا فِتْنَةَ للناس: وہ رویا جو ہم نے تمہیں دکھائی تھی محض اس لیے دکھلائی تھی کہ ہم اُسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنائیں۔اس باب اور زیر باب حدیث کا تقدیر سے کیا تعلق ہے اور امام بخاری اسے کتاب القدر میں کیوں لائے ہیں۔امام بخاری کی ترتیب ابواب کو مد نظر رکھا جائے تو یہ اشکال دور کرنا مشکل نہیں۔امام بخاری نے باب نمبر 9 سے قوموں کے منزل اور ادبار کی وجوہات بیان کی ہیں۔ان میں ایک وجہ فسق و فجور میں مبتلا ہوتا ہے جو باب نمبر 9 میں بیان کی گئی ہے۔باب نمبر ۱۰ میں اس تقدیر الہی کے ظہور کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے مقدر کی گئی تھی۔آپ کے معراج میں اس روحانی انقلاب کے نشان بیان کیے گئے کہ آپ سے قبل جس قدر انبیاء آئے ان میں کسی کی پرواز دوسرے آسمان پر کسی کی تیسرے تک، کوئی چوتھے تک پہنچا تو کسی کی منزل پانچواں یا چھٹا آسمان بنا اور آخری پرواز حضرت موسیٰ کی ساتویں آسمان پر دکھائی گئی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہفت افلاک کو پار کر گئے اور آپ کا یہ معراج صرف ماضی