صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 398 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 398

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹۸ ۸۲ - كتاب القدر باب ۱۰ : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ (بنى اسرائيل : ٦١) وہ رویا جو ہم نے تمہیں دکھائی تھی محض اس لیے دکھائی تھی کہ ہم اُسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنائیں ٦٦١٣ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۶۶۱۳: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار) نے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا ہم سے بیان کیا۔ عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَيْنكَ إِلَّا فِتْنَةٌ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ تجھے دکھائی تھی لِلنَّاسِ (بنى اسرائيل: ٦١) قَالَ هِي ( یہ جو فرمایا:) اور جو رویا ہم نے تجھے رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ اسے ہم نے لوگوں کے لیے صرف امتحان کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ ذریعہ بنایا تھا۔ اُنہوں نے کہا: یہ آنکھ کا نظارہ ہے الْمَقْدِسِ قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھایا گیا جس رات کہ آپ کو بیت المقدس کی طرف لے فِي الْقُرْآنِ قَالَ هِيَ شَجَرَةُ الزَّقُومِ۔ جایا گیا اور وہ درخت جسے قرآن میں لعنتی قرار دیا أطرافه : ٣٨٨٨، ٤٧١٦۔ ہے۔ اُنہوں نے کہا: وہ تھوہر کا درخت ہے۔ تشريح ۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً للناس: وہ رویا جو ہم نے تمہیں دکھائی تھی محض اس لیے دکھلائی تھی کہ ہم اُسے لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بنائیں۔ اس باب اور زیر باب حدیث کا تقدیر سے کیا تعلق ہے اور امام بخاری اسے کتاب القدر میں کیوں لائے ہیں۔ امام بخاری کی ترتیب ابواب کو مد نظر بیان رکھا جائے تو یہ اشکال دور کرنا مشکل نہیں۔ امام بخاری نے باب نمبر ۹ سے قوموں کے تنزل اور ادبار کی وجوہات بیا کی ہیں۔ ان میں ایک وجہ فسق و فجور میں مبتلا ہونا ہے جو باب نمبر 9 میں بیان کی گئی ہے۔ باب نمبر ۱۰ میں اس تقدیر الہی کے ظہور کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ باجود سے مقدر کی گئی تھی۔ آپ کے معراج میں اس روحانی انقلاب کے نشان بیان کیے گئے کہ آپؐ سے قبل جس قدر انبیاء آئے ان میں کسی کی پرواز دوسرے آسمان پر کسی کی تیسرے تک، کوئی چوتھے تک پہنچا تو کسی کی منزل پانچواں یا چھٹا آسمان بنا اور آخری پرواز حضرت موسیٰ کی ساتویں آسمان پر دکھائی گئی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہفت افلاک کو پار کر گئے اور آپ کا یہ معراج صرف ماضی